کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 180
توحید کا چوتھا درجہ الٰہ کا معنی: اہلِ علم کے اجماع کے ساتھ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لفظ الٰہ کے معنی معبود کے ہیں ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِِلٰہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِِلٰہٌ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ﴾ [الزخرف: ۸۴] [اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے] نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰھَہُ ھَوٰہُ ﴾ [الفرقان: ۴۳] [کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا؟] الٰہ بمعنی معبود ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش سے کہا تھا: تم میرے سامنے ایک کلمے کا اقرار کرو جس سے تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ ابوجہل نے بڑھ کر کہا: ایک کلمہ کیا ہم دس گنا کلمات کا اقرار کرنے کو تیار ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه‘‘ کہو۔ یہ سن کر وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور منتشر ہو گئے اور کہنے لگے: ﴿ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِِلٰھًا وَّاحِدًا اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ﴾ [صٓ: ۵] [کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلا شبہہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے] [1] ان کی طرف سے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ﴿ ئَ اٰلِھَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ھُوَ﴾ [الزخرف: ۵۸] [کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟] نیز فرمایا: [1] تفسیر البغوي (۷/۷۱)