کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 138
والی اور حقوق میں کوتاہی کرنے سے مانع ہو۔[1] انتھیٰ۔ میں کہتا ہوں : جس طرح کوئی ایمان دار بے حیا نہیں ہوتا ہے ،اسی طرح اکثر بے حیا ایمان دار نہیں ہوتے ہیں ۔ آپ نے اہلِ فسق کو دیکھا ہو گا کہ ان کو اپنی نیک نامی اور رسوائی کی کچھ پروا نہیں ہوتی ہے، اسی لیے وہ اعمالِ ایمان پر ثابت قدم بھی نہیں رہتے۔ ان سے ہمیشہ مہلک اعمال سرزد ہوتے ہیں اور وہ نجات دلانے والے اعمال کی طرف کبھی توجہ نہیں دیتے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے شرم کرتے ہیں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اور نہ اللہ کے نیک بندوں ہی سے۔ ان کا ایمان سخت ضعیف اور ناتواں ہے۔ ایمان کے کچھ مزید اجزا: منجملہ ایمان کے ایک حسنِ جوار اور اکرامِضیف ہے۔ احادیث میں اس کی بہت تاکید آئی ہے۔ ابو شریح رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ہمسائے کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور مہمان کی عزت کرے اور اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘[2] (رواہ مسلم) منجملہ ایمان کے منکر کو ہاتھ یا زبان سے روکنا یا دل سے برا جاننا ہے۔ یہ مضمون ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث میں بیان ہوا ہے۔[3] منکر اور برائی کو ہاتھ کے ساتھ مٹانا ائمہ و ملوک اور اہلِ اسلام کا کام ہے اور زبان سے اسے بدلنا اور ختم کرنا علماے آخرت کا کام ہے اور دل سے برا جاننا مسلمان عوام کا کام ہے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ رہ گئی رسمِ اذان روحِ بلالی نہ رہی: ’’السراج الوھاج‘‘ میں لکھا ہے: ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایمان بھی ایک زمانہ دراز سے ضائع ہو چکا ہے۔ گویا لوگوں نے اسے ایک منسوخ شریعت سمجھ لیا ہے اور اب سوائے چند رسموں کے کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ ایک بہت عظیم باب ہے جس کے ساتھ امر دین سیدھا اور قابو میں آ جاتا ہے۔ جب [1] شرح النووي (۲/۵، ۶) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۸) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۹)