کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 137
’’یہ استقامت وہ خصلت ہے جس سے سارے محاسن کامل ہوتے ہیں اور اس خصلت کے نہ ہونے سے جملہ محاسن مفقود ہو جاتے ہیں ۔‘‘[1] انتھیٰ۔ حیا ایمان کا جزو ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( اَلْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْإِیْمَانِ )) [2] (رواہ مسلم) [حیا کرنا ایمان کا جزو اور حصہ ہے] اہلِ علم نے کہا ہے کہ حیا کو اس لیے ایمان ٹھہرایا گیا ہے کہ کبھی تو وہ دیگر تمام نیک اعمال کی طرح تخلق و اکتساب سے حاصل ہوتی ہے اور کبھی یہ حیا طبعی ہوتی ہے، لیکن قانونِ شرع میں اس کا استعمال اکتساب و نیت کا محتاج ہوتا ہے اسی لیے وہ منجملہ ایمان کے ٹھہری، کیوں کہ یہ نیک اعمال پر برانگیخت کرنے والی اور معاصی اور گناہوں کے ارتکاب سے روکنے والی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( اَلْحَیَائُ خَیْرٌ کُلُّہٗ )) [3] (رواہ مسلم) [حیا سراسر خیرو بھلائی ہے] حیا سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب: اگر کوئی یہ کہے کہ (حیا خیر کیسے ہو سکتی ہے) یہ تو کبھی حق کا سامنا کرنے اور اسے قبول کرنے سے مانع ہوتی ہے، نیز نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے فریضے کو ترک کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ تو حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ اور ائمہ کی ایک جماعت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اشکال میں مذکورہ حالت کو مجازی طور پر حیاکہا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں حیا وہ ہے جو ترکِ قبیح پر برانگیخت کرنے [1] شرح النووي (۲/۹) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۵) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۷)