کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 124
ہوں کہ اسے جنت میں ضرور داخل کریں گے، مگر اسے (آغاز میں اس سے) محرومی کا داغ اور زخم ضرور سہنا پڑے گا] 7۔سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا تھا، نمازِ پنج گانہ ادا کرتا تھا اور ماہِ رمضان کا روزہ رکھتا تھا تو اس کی بخشش ہو جائے گی۔ میں نے عرض کی: ’’أَفَلَا أُبَشِّرُھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘ [یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ سناؤں ؟] آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((دَعْھُمْ یَعْمَلُوْا)) ’’انھیں اعمال کرنے کے لیے چھوڑ دو!‘‘ [1] (رواہ أحمد) اس حدیث میں بخشش کو فرض اعمال کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے۔ 8۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کی: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق اورسعادت مند کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میرا یہ گمان تھا کہ تجھ سے پہلے مجھ سے یہ سوال کوئی نہیں کرے گا، کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تو علمِ حدیث کی بڑی حرص رکھتا ہے۔ قیامت کے دن میری شفاعت کے ساتھ وہ شخص سرفراز ہو گا جس نے خلوصِ دل کے ساتھ ’’لا الٰہ الا اللّٰه‘‘ پڑھا۔‘‘[2] (رواہ البخاري) معلوم ہوا کہ جو شخص عقیدے میں موحد ہے لیکن عمل میں کوتاہی کا مرتکب ہے، وہ اپنی نجات کے لیے شفاعت کا محتاج ہو گا اور جس کے اعمال صالحہ کامل ہوں گے، وہ حساب کے بغیر جنت میں جائے گا۔ 9۔سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: ’’جس شخص نے مخلص ہو کر ’’لا الٰہ الا اللّٰه‘‘ پڑھا، وہ جنت میں جائے گا۔‘‘ پوچھا گیا اس کا اخلاص کیا ہے؟ فرمایا: ’’یہ کلمہ اس کو محارم کے ارتکاب یا اس چیز سے روکے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہے ۔‘‘[3] (رواہ الطبراني في الأوسط بإسناد ضعیف) [1] مسند أحمد (۵/۲۲۸، ۲۳۲) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۹۹) [3] المعجم الأوسط (۲/۵۲) اس کی سند میں ’’محمد بن عبدالرحمٰن بن غزوان‘‘ متروک اور وضاع ہے۔ اس کی ایک اور سند المعجم الکبیر للطبراني (۵/۱۹۷) میں بھی موجود ہے، لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔