کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 121
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے معاذ! تم پر تیری ماں روئے۔ یہی زبان کی گفتگو ہی تو لوگوں کو آگ میں اوندھے منہ گرائے گی۔‘‘[1] (رواہ أحمد و الترمذي و ابن ماجہ) ا س حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں جانے کے لیے اعمالِ خیر درکار ہیں اور ان اعمال کا عامل آگ میں جائے بغیر جنت میں داخل ہو گا۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ شہادتین کا اقرار کرنے والا ہو، لیکن عمل صالح میں کوتاہی کا مرتکب ہو تو بالآخر اس کی بھی نجات ہو گی، مگر دخولِ نار کے بعد، جس کے دلائل درج ذیل ہیں : 1۔سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینا محمدصلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس پرجہنم کی آگ کو حرام کر دیا۔‘‘[2] (رواہ مسلم و الترمذي) 2۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: ’’جو شخص اس حالت میں فوت ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود (برحق) نہیں تو وہ جنت میں جائے گا۔‘‘[3] (مسلم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ والی روایت میں قول کا اعتبار کیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ والی روایت میں صرف علمِ توحید پر اکتفا کیا ہے، اس لیے کہ کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ موت کے وقت زبان بند ہو جاتی ہے اور منہ سے کوئی کلمہ اد انہیں ہوتا، لیکن اگر دل میں کلمۂ طیبہ کا صحیح اعتقاد موجود ہو تو نجات کی امید قائم ہے۔ 3۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے سوال کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں ؟‘‘ [1] مسند أحمد (۵/۲۳۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۱۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۹۷۳) و قال الترمذي: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح‘‘ [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۳۸) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۳)