کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 115
معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں ، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ یہ سن کر معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں لوگوں کو اس بات کی خوش خبری نہ دوں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((لَا تُبَشِّرْھُمْ فَیَتَّکِلُوْا)) ’’تو انھیں یہ بشارت نہ دو، کہیں وہ بھروسا کر کے بیٹھ نہ رہیں ۔‘‘ [1] یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس خوش خبری پر بھروسا کر کے بیٹھ جائیں اور عمل نہ کریں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ’’جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یقینا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دیتا ہے۔‘‘ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’کیا میں لوگوں کو اس بات سے آگاہ نہ کروں ؟ وہ یہ سن کر خوش ہوں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((إِذاً یَّتَّکَلُوْا)) ’’وہ اس بات کو سن کر بھروسا کر کے بیٹھ جائیں گے۔‘‘ جب معاذ رضی اللہ عنہ فوت ہونے لگے تو علم چھپانے اور حدیث کی عدمِ تبلیغ کے گناہ کے ڈر سے اس وقت انھوں نے یہ حدیث بیان کر دی۔[2] (متفق علیہ) یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ عمل میں کوتاہی کے باوجود صدقِ دل سے شہادتین کا اقرار اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے کی صورت میں کسی نہ کسی دن ضرور فائدہ دے گا۔ چنانچہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۷۰۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۰) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۲۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۲)