کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 113
اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔‘‘ [1] (متفق علیہ) اگر وہ بہ طورِ نفاق یہ کام سر انجام دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کا محاسبہ کرے گا، مگر بہ ظاہر ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کیا جائے گا۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں منافق بہت زیادہ تھے، اس لیے قرآن مجید اہلِ نفاق کی مذمت سے لبریز ہے۔ دخولِ جنت کے اسباب و شرائط: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کی: ’’مجھے ایسا عمل بتائیں کہ جب میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے جواب دیا: ’’تو اللہ کی عبادت کر اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرا، فرض نماز اد اکر، فرض زکات ادا کر اور رمضان کا روزہ رکھ۔‘‘ اس نے یہ سن کر کہا: ’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نہ اس میں کمی کروں گا اور نہ زیادتی۔‘‘ جب وہ واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جسے یہ بات پسند ہے کہ وہ کسی جنتی شخص کو دیکھے تو وہ اس (اعرابی) شخص کو دیکھ لے۔‘‘ [2] (متفق علیہ) مذکورہ حدیث میں دخولِ جنت کو عدمِ شرک اور فرائضِ اسلام کی بجا آوری پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں جانے کے لیے عمل صالح درکار ہے۔ ایک اشکال اور اس کا جواب: ایک حدیث میں آیا ہے کہ جنت کا داخلہ اللہ کے فضل ہی سے ممکن ہو سکے گا۔[3] تو پھر دخولِ جنت کو عمل صالح کے ساتھ مشروط قرار دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ جنت کا حصول عمل پر نہیں بلکہ محض اللہ کے فضل پر موقوف ہے، لیکن عمل کو اللہ کے فضل کی ایک علامت اور نشانی ٹھہرایا گیا ہے کہ عمل صالح اس فضل ربی کے حصول کا ذریعہ ہے، جس فضل پر دخولِ جنت موقوف ہے۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۳۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۳۴۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۱۶)