کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 110
جب موسیٰ علیہ السلام کی امت کے ہزارہا فاسق لوگ عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوئے اور موسیٰ علیہ السلام ان کے یک بار مرنے سے سخت افسردہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْن﴾ [المائدۃ: ۲۶] اے موسی! تو ان فاسقوں کے مرنے کا رنج نہ کر، کیونکہ یہ اللہ کے ہاں بے قدرے ہیں ، اس لیے کہ ان کا ایمان کامل نہیں ہے۔ اگر انھیں اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام سے سچی محبت ہوتی تو یہ ان کے حکم کے خلاف ہر گز کوئی کام نہ کرتے۔ خاص طور پر کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے تو ضرور بچتے اور تھوڑی اور زیادہ، مخفی اور ظاہر بدعات سے دور بھاگتے، مگر ان کے دل پر غیر اللہ کی محبت کا تسلط اور غلبہ ہے، اسی لیے ان کے ایمان میں ضعف اور کمی ہے۔ غیر اللہ کے ساتھ ان کی یہی محبت ان کی نجات کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گی۔ غیر حق ہر چہ دلت را بربود سدّ راہِ توہماں خواہد بود [تیرے دل میں حق کے علاوہ جو کچھ ہے اسے باہر نکال دے، ورنہ حق کی مخالفت تیری نجات کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گی] کمالِ ایمان کی ایک اور سیڑھی: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ کے لیے کسی سے بغض رکھا، کسی کو دیا تو اللہ کے لیے دیا اور اگر کسی سے روکا تو اللہ کے لیے روکا، اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔‘‘[1] (رواہ أبوداود والترمذي) ایمان کے مزید درجات: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے : ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے [1] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۴۶۸۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۵۲۱)