کتاب: مجموعہ مقالات و فتایٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی - صفحہ 424
التحقیقات العلیٰ
بإثبات فرضیۃ الجمعۃ في القریٰ[1]
الحمد للّٰه رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین۔
سوال : 1فرضیتِ[2] صلوٰ ۃ جمعہ کی قصبات و دیہات میں احادیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟
2 اور شرائط و قیو دات واسطے صلوٰۃ جمعہ جو کتب حنفیہ میں لکھی ہوئی ہیں ، وہ احادیث صحیحہ سے مستنبط ہیں یا نہیں ؟
3 اور جو بعض لوگ ظہراحتیاطی بعد ادائِ صلوٰۃ جمعہ کے پڑھتے ہیں ، اس کا پڑھنا جائزہے یا نہیں ؟
جواب : {اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ} [یوسف : ۴۰]۔ [ فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے]
جواب سوال اول یہ ہے کہ صلوٰۃ جمعہ فرض عین ہے۔ فرضیت اس کی نص قطعی سے ثابت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
{ ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ۔۔۔} [الجمعۃ:۹]
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جس وقت کہ پکارا جاوے واسطے نماز کے دن جمعہ کے پس
[1] یہ رسالہ مطبع احمدی پٹنہ سے ۱۳۰۹ھ میں شائع ہوا تھا اور دوسری بار لاہور میں ایک مجموعے کے اندر چھپا۔ اس کا قلمی نسخہ خدا بخش لائبریری میں زیر رقم (۳۱۸۰/۳) ہے، جس سے مقابلہ کر لیا گیا ہے۔ بعض حواشی اور کتابوں کے حوالے مولانا محمد عطاء اﷲ بھوجیانی کے قلم سے ہیں ۔ [ع، ش]
[2] اس بارے میں ایک روایت حضرت تمیم داریt سے سنن بیہقی (۳/ ۱۸۳) اور دوسری روایت حضرت جابرt سے سنن دارقطنی (ص: ۱۶۴) اور سنن بیہقی (۳/ ۱۸۴) میں آئی ہے۔ [ع، ح]