کتاب: مجموعہ مقالات و فتایٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی - صفحہ 408
مکۃ تجتمعون علي وعندکم عطاء‘‘[1] انتھی مختصرا
[ عطاء بن ابی رباح القرشی مکہ میں سکونت پذیر ہوئے، فقہا اور ائمہ میں سے ایک ہیں ۔ وہ ثقہ عالم اور کثیر الحدیث تھے۔ مکہ میں فتویٰ انھیں پر ختم تھا۔ ابو حنیفہ نے کہا کہ میں عطاء سے زیادہ صاحب فضیلت آدمی سے نہیں ملا۔ ابن عباس نے کہا ہے کہ جب کہ ان سے کسی چیز کی بابت کچھ پوچھا گیا کہ اے اہل مکہ! تم میرے گرد جمع ہوتے ہو جبکہ تمھارے پاس عطاء موجود ہیں ۔ ختم شد]
باقی رہا یہ کہ لفظ آمین دعا ہے یا نہیں ؟ اس کی تحقیق کماحقہ میں نے اپنے رسالہ ’’فتح المعین في الرد علی البلاغ المبین في إخفاء التأمین‘‘ میں کہ ردہفوات محمد شاہ پنجابی میں بے نظیر لکھاہے، جس کو شوق ہو اس کی سیر کرے۔
اور جواب وجہ دوم کا یہ ہے کہ اول یہ تو عطا ء کا قول نہیں ہے، بلکہ عطاء حکایت کرتے ہیں فعل صحابہ کی، تو آپ کا گستاخی کرنا اس فعل پر دو سو صحابہ کے نہایت امر مذموم ہے۔ اور بالفرض اگر یہ صرف عطاء کا قول ہوتا، یعنی عطاء بایں عبارت کہتے ہیں کہ ’’التأمین بالجھر سنۃ‘‘ اور کسی حدیث میں آمین بالجہر کا ثبوت پایا نہیں جاتا بلکہ خلاف اس کا ثابت ہوتا، توالبتہ تسلیم کرنا قول عطاء کا محل تردد تھا۔ اور اس صورت میں عطاء پر کیا موقوف ہے، کسی اہل علم کا قول جومخالف حدیث صحیح ہو مقبول نہیں مردود ہے اور حال یہ ہے کہ یہ قولِ عطاء مخالف قولِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ موافق احادیث صحیحہ کے ہے، جیسا کہ بیان اس کاگزرا اور مطابق آیات کے ہے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
{ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ} [النساء: ۸۰]
[اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو اطاعت کرے، اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی]
اور فرمایا:
{ وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا} [الحشر: ۷]
[اور تمھیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ]
[1] الخلاصۃ للخزرجي (ص: ۲۶۶)