کتاب: مجموعہ مقالات و فتایٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی - صفحہ 323
اگر گلیم و گر غنچہ پاک داما نیم نہ دست بردن گلچیں بہ نزع شیطانی بہیچ زائغہ بروہوا گذر نکند بباغ ما کہ کند علم غیب رضوانی[1] اور نیز خلاف تہذیب کلمات سے مہذب ہوئے۔ افسوس صد افسوس۔بہرحال میں موافق حکم عدالت: {اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} [حم السجدۃ: ۳۴] کے پاسخ تحریر وکیل صاحب دیتا ہوں ۔ واللہ الموفق۔ اور اس رسالہ کا نام ’’الکلام المبین في الجہر بالتأمین و الرد علی القول المتین‘‘ کہا۔ اگر وکیل صاحب اس رسالہ کو اول سے آخر تک بغور ملاحظہ فر مائیں گے تو حقیقت اس مسئلہ کی ان پر ظاہر ہو جائے گی۔ قولہ: واضح ہو۔ أقول: اجی جناب! کب کا واضح ہو چکا ہے، آپ ذرا رسائلِ اہل حدیث کو مطالعہ فرمایئے۔ قولہ: ان کا یہ کہناکہ اس فرقہ جدید۔ أقول: اے جناب ! یہ فرقہ اہل حدیث کا تیر ہ سو برس سے ہے۔ موافق آپ کے قاعدے کے بھی تمادی عارض ہوئی، اب نالش فریاد غیر مسموع ہے، البتہ آپ کے موکل کا مسلک متکلم فیہ ہے اور نیز نسبت اس کی برابر استغاثہ عدالت عالیہ میں ہوتا چلا آیا ہے اور ڈگری بحق اہل حدیث ہوتی رہی۔ ہاں اس کید باطل کے لحاظ سے بیشک یہ چلن اہل حدیث کا جدید ہے، لیکن آخر کید قدیم کید ہے۔ قولہ: لامذہب نے۔ أقول: عدالت میں ایسے الفاظ نازیبا ہیں اور میں حکم ما سبق عدالت کا پابند ہوں و إلا بمقتضائے۔ بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے کہ خصم آپ کا آپ کو بد مذہب کہہ دے تو کیسے ہو؟ قولہ : عجب شور و غل مچا رکھا ہے۔
[1] اگر گدڑی اور کلی پاک دامن ہوں تو نزع شیطانی کے ساتھ باغباں سے دست و گریبان نہیں ہونا پڑتا، ہمارے باغ میں ہوا کسی قسم کے ٹیڑھے پن کے ساتھ نہیں گزرتی، کیونکہ رضوانی علم غیب سے اس کی تائید ہوچکی ہوتی ہے۔