کتاب: مجموعہ مقالات و فتایٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی - صفحہ 302
والورع، ولا تتخذہ جلیسا تطاعمہ وتنادمہ‘‘[1] انتھی
حاصل ترجمہ علامہ خطابی کا یہ ہے کہ بدکاروں کی دعوت نہ کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدکاروں کے ساتھ رہنے کو اور میل جول رکھنے کو اور ان کے ساتھ کھانے پینے کو اس واسطے منع فرمایا کہ ان لوگوں سے دوستی و محبت نہ ہو جائے۔
’’وعن أبي ھریرۃ أن النبي صلی اللّٰهُ علیه وسلم قال: الرجل علی دین خلیلہ، فلینظر أحدکم من یخالل‘‘[2] رواہ أبو داود والترمذي، وحسنہ، وصححہ الحاکم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوگا تو دیکھ لے کس سے دوستی کرتا ہے۔
یعنی سمجھ بوجھ کر دوستی کرے، ایسا نہ ہو کہ مشرک یا بدعتی سے دوستی کرے، پھر اس کے ساتھ آپ بھی جہنم میں جائے۔
’’وعن علي قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰهُ علیه وسلم : لا یحب رجل قوماً إلا حشر معھم‘‘[3] رواہ الطبراني في الصغیر والأوسط بإسناد جید
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی قوم کو دوست رکھتا ہے، و ہ ا س کے ساتھ قیامت میں اٹھایا جا وے گا۔‘‘
’’وعن جریر قال: سمعت النبي صلی اللّٰهُ علیه وسلم یقول: ما من رجل یکون في قوم یعمل فیھم بالمعاصي، یقدرون علی أن یغیروا علیہ فلا یغیروا إلا أصابھم اللّٰه بعقاب من قبل أن یموتوا‘‘[4]
ترجمہ: ’’جریر سے روایت ہے کہ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے، آپ فرما تے تھے: جو شخص کسی قوم میں برے کام کیا کر تا ہو اور قوم والے باوجود قدرت کے اس کو اور اس کے کام نہ بگاڑیں تو اللہ اپنا عذاب ان پر ان کی موت سے پہلے ہی پہنچا تا ہے۔‘‘
[1] معالم السنن للخطابي (۲/ ۴۷۷)
[2] 2 سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۸۳۳) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۳۷۸) وقال: ’’ھذا حدیث حسن غریب‘‘ مسند أحمد (۲/ ۳۳۴) المستدرک علی الصحیحین للحاکم (۴/ ۱۸۹)
[3] المعجم الأوسط (۶/ ۲۹۳) المعجم الصغیر (۲/ ۱۱۴)
[4] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۳۳۹) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۰۰۹) مسند أحمد (۴/ ۳۶۴)