کتاب: مجموعہ مقالات و فتایٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی - صفحہ 291
’’قال: وفي ید رسول اللّٰه صلی اللّٰهُ علیه وسلم قوس، وھو آخذ بسیۃ القوس، فلما أتی علی الصنم جعل یطعن في عینہ، و یقول: جاء الحق وزھق الباطل‘‘[1] ’’کہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے: اور ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمان تھی اور آپ پکڑے ہوئے تھے سرے کو کمان کے، پس جبکہ آتے تھے بت کے پاس اس کی آنکھ میں کمان سے ٹھوکر لگاتے تھے اور فر ماتے کہ آیا حق اور گم ہوا باطل۔‘‘ اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی واقعہ میں مروی ہے: ’’فیسقط الصنم ولا یمسہ‘‘[2] یعنی ٹھوکر لگانے سے بت گر جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دست مبارک سے چھوتے نہیں ۔ اور طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ’’فلم یبق وثن إلا سقط علی قفاہ، مع أنھا کانت ثابتۃ بالأرض، قد شد لھم إبلیس أقدامھا بالرصاص‘‘[3] یعنی پس نہیں باقی رہا کوئی بت مگر یہ کہ کٹ کر گر گیا باوجود اس کے کہ وہ بت سب زمین میں گڑے ہوئے تھے اور شیطان نے ان کے پیروں کو رانگا سے جکڑ دیا تھا۔ اور ابو داود نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ’’إن النبي صلی اللّٰهُ علیه وسلم أمر عمر بن الخطاب، وھو بالبطحاء، أن یأتي الکعبۃ فیمحو کل صورۃ فیھا، فلم یدخلھا حتی محیت کل صورۃ، وکان عمر ھو الذي أخرجھا‘‘[4]
[1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۸۰) [2] صحیح ابن حبان (۱۴/ ۴۵۲) المعجم الأوسط للطبراني (۸/ ۵۱) اس کی سند میں ’’عاصم بن عمر العمری‘‘ راوی ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۶۳۹۷) [3] المعجم الکبیر (۱۰/ ۲۷۹) و المعجم الصغیر (۲/ ۲۷۲) ان مصادر میں روایت کے الفاظ مختلف ہیں ، کیونکہ مولف رحمہ اللہ کے نقل کردہ الفاظ فتح الباری لابن حجر (۸/ ۷۱) سے ماخوذ ہیں ۔ امام ہیثمی رحمہ اللہ یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’رواہ الطبراني في الصغیر، وفیہ ابن إسحاق، وھو مدلس ثقۃ، وبقیۃ رجالہ ثقات‘‘ (مجمع الزوائد: ۱۱۱۴۸) [4] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۱۵۶) مسند أحمد (۳/ ۳۸۳) نیز دیکھیں : فتح الباري (۸/ ۱۷)