کتاب: مجموعہ مقالات و فتایٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی - صفحہ 265
بخلاف معز کے جذع کے۔ یہ قول ابراہیم حربی کا ہے۔ اس بچے کی بلوغت کی پہچان اس کی پیٹھ پر اون کے بیٹھ جانے سے ہوگی۔ خرقی نے کہا ہے: میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے اہل بادیہ میں سے کسی سے پوچھا: ضان یعنی بھیڑ یا دنبے کے بارے میں کیسے پتا لگاتے ہو کہ وہ بالغ ہوگیا ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ جب تک اون اس کی پیٹھ پر رہتا ہے، پھر جب یہی اون اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ جذع ہوگیا]
اور کتاب منتہی الارادات (صفحہ ۷۰۹) میں ہے :
’’(ولا یجزِئ ) في ھدیٍ واجِبٍ ولا اُضحیۃ ( دُونَ جَذَعِ ضَأْنٍ ) وَھُوَ (مَا لَہُ سِتَّۃُ أَشْھُرٍ )کَوَامِلَ، لِحَدِیثِ: یُجْزِئُ الْجَذَعُ مِنْ الضَّأْنِ أُضْحِیَّۃً، رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ، وَالْھَدْيُ مِثْلُھَا، وَیُعْرَفُ بِنَوْمِ الصُّوفِ عَلَی ظَھْرِہِ، قَالَہ الْخِرَقِيِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ ‘‘[1]
[واجب ہدی اور قربانی میں ضان کے جذع سے کم جانور کفایت نہیں کرتا، جو پورے چھے ماہ کا ہو، کیونکہ حدیث میں ہے: ضان کا جذعہ قربانی میں کافی ہے۔ ہدی بھی اسی طرح ہے۔ جذع کی پہچان اس کی پیٹھ پر اون کے بیٹھ جانے سے ہوتی ہے، جسے خرقی نے اپنے والد کے واسطے سے دیہات والوں سے ذکر کیا ہے]
49۔ میت کی طرف سے قربانی[2]
سوال : کیا میت کی طرف سے قربانی جائز ہے اور اسے اس کا ثواب پہنچتا ہے؟
جواب : میت کی طرف سے قربانی سنت ہے اور اس کا ثواب اسے بلاشبہہ پہنچتا ہے۔ اس موضوع سے متعلق جو حدیثیں مروی ہیں ، ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے۔ ان میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں اور اپنی امت کے ہر اس شخص کی طرف سے قربانی کرتے تھے جو توحید و رسالت کی شہادت دے۔ ظاہر ہے امت محمدیہ میں بہت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
[1] شرح منتھی الإرادات (۱/ ۶۰۲)
[2] یہ فتویٰ عربی میں ’’غنیۃ الألمعي‘‘ (در آخر: المعجم الصغیر للطبرانی ۲/ ۱۶۳۔ ۱۷۶) میں موجود ہے۔ یہاں اس کا مختصر اردو ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔ [ع، ش[