کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 90
حضرت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر بطریق تواتر ثابت ہوا، جس کے ساتھ مخالفینِ اسلام سے تحدی، یعنی معارضہ طلب کیا گیا:﴿قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ﴾ الآیۃ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع کیا گیا، جس کی نقلیں حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے کراکر تمام اسلامی دنیا میں شائع کیا، جو آج تک تمام دنیا میں شائع ہے، جس کو اس وقت سے اب تک ہر زمانے میں لاکھوں حافظ حفظ کرتے چلے آئے۔ حدیث، یعنی حدیثِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس قول و فعل اور تقریر کو کہتے ہیں ، جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو یا وہ قول جس کی نسبت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے اور وہ مندرجہ قرآن نہ ہو، گو وہ قول و فعل یا تقریر کلامِ الٰہی ہی سے ماخوذ ہو، لیکن اس کی نسبت صراحتاً فرمایا گیا ہو کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے۔ اصطلاحِ شرع میں حدیثِ قدسی (حدیثِ الٰہی) اس حدیث کو کہتے ہیں ، جس میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرما دی ہو کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے، جیسے: (( عن أبي ھریرۃ قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : قال اللّٰه تعالیٰ: أعددت لعبادي الصالحین ما لا عین رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علی قلب بشر )) (متفق علیہ، مشکوۃ، ص: ۴۸۷)[1] [سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے، جو کسی آنکھ نے دیکھا ہے، کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے] ان تینوں امور میں فرق جوابات نمبر ہائے مذکورہ بالا سے بآسانی معلوم کر سکتے ہیں ۔ قرآن پاک کے الفاظ یقینا باَعیانہا منزل من الله ہیں اور حدیث شریف کے الفاظ کی نسبت یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ منزل من الله ہیں ، اگرچہ حدیث قدسی ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ حدیثیں جو فی الواقع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہیں ، جو متعلق بہ تبلیغِ رسالت ہیں ، وہ داخلِ وحی ہیں ، کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی ٭ اِِنْ ھُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی﴾ [النجم: ۳، ۴] [اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے] اور حدیث ترمذی منقولہ سوال نمبر5 صحیح نہیں ہے، اس میں ایک راوی عطیہ ہے، جو کثیر الخطا اور مدلس ہے اور اس نے اس حدیث کو ’’عن‘‘ کے ساتھ روایت کی ہے اور مدلس جو حدیث ’’عن‘‘ کے ساتھ کرے، وہ حدیث صحیح نہیں ہے اور ابو سعید جس سے عطیہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے، معلوم نہیں کون ہے؟ ظنِ غالب یہ ہے کہ یہ ابو سعید محمد بن سائب کلبی ہے، جو متہم بکذب و متہم بالوضع ہے۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۵؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۱ھ) [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۰۷۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۲۴) مشکاۃ المصابیح (۳/ ۲۲۰)