کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 85
"عن نافع عن عبد اللّٰه قال: قام رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم خطیبا فأشار نحو مسکن عائشۃ فقال: ھنا الفتنۃ ثلاثاً من حیث یطلع قرن الشیطان" [1] [نافع رحمہ اللہ عبد الله رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے بیان کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تین بار اشارہ کر کے فرمایا: یہاں فتنہ ہوگا، جہاں سے شیطان کا سینگ (شاخ) نکلے گا] اس حدیث میں قرنِ ابلیس سے وہی مراد ہے، جو سائل نے سمجھا ہے، یعنی ضلالت و فتنہ۔ باقی رہا حدیث کا مطلب تو اس حدیث میں ظاہراً تین احتمال ہیں : احتمال اول یہ ہے کہ طلوع ہونا قرنِ ابلیس کا حضرت عائشہ کے گھر سے مراد ہے۔ احتمال ثانی یہ ہے کہ قرنِ ابلیس سے معاذ الله صاحبِ خانہ، یعنی حضرت عائشہ کی ذات مراد ہے۔ احتمال ثالث یہ ہے کہ طلوع ہونا قرنِ ابلیس کا اس جانب سے مراد ہے، جس جانب حضرت عائشہ کا مسکن تھا اور وہ مشرق کی طرف تھا، یعنی مشرق کی جانب سے فتنہ اُٹھے گا۔ احتمال اول تو صریح باطل ہے، جو سائل کے نزدیک بھی محل تردد ہے، چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی، اور پھر باوجود اور احتمالات کے اس احتمال کو متعین کر کے ناحق تردد اور گمراہی میں کیوں پڑے؟ احتمال ثانی کے یقین پر باوجود احتمال ثالث کے کوئی دلیل نہیں ، خصوصاً یہ احتمال احتمال اول سے بھی زیادہ تردد میں ڈالتا ہے اور مومن کی شان سے بہت بعید ہے کہ اس احتمال کو متعین کرے اور کیونکر اس احتمال کو کوئی مومن متعین کر سکتا ہے کہ اس میں صریح اہانت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی ہے۔ اگر یہ احتمال فی الواقع صحیح ہوتا تو بعد علم کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی زوجہ کی صحبت ایک آن کے لیے بھی گوارا نہ کرتے، چہ جائیکہ اور کثرت صحبت و محبت کی ہو اور تمام صحابہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ضلالت و فتنہ کا شعور ہوجاتا، خصوصاً راوی اس حدیث کے عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کبھی اکرام اور احترام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نہ کرتے اور ان کے فضائل اور مناقب مشہور نہ کرتے، کیونکہ ان کے مناقب اور اس احتمال ثانی میں بہت بڑا تعارض اور تضاد ہے تو باوجود ان قباحتوں کے اور احتمال ثالث کے ہوتے ہوئے کسی مومن کا کام نہیں کہ احتمال ثانی کو متعین کرلے اور جب احتمال ثانی بھی کسی طرح متعین نہیں ہوسکتا تو لا محالہ احتمال ثالث متعین ہوا اور اس حدیث کے رو سے کسی اعتراض یا خدشہ اور شبہہ کرنے کی جگہ باقی نہ رہی اور قطع نظر اس بحث کے احتمال ثالث کا تعین دلیل سے ثابت ہے۔ اولاً یہ کہ"نحو مسکن عائشۃ"لفظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ راوی کا، یعنی عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے، جو کلمہ "ھنا"کی شرح میں مذکور ہوا ہے اور یہی عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس واقعہ کی دوسری روایت میں اس کلمہ"ھنا" کی شرح [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۹۳۷)