کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 76
اور ہے، جس کو عقیلی اور دارقطنی نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ یہ ہے: (( تفترق أمتي علی سبعین أو إحدی وسبعین فرقۃ۔۔۔ الحدیث )) [1] [میری امت ستر یا اکہتر فرقوں میں بٹ جائے گی] یا (( تفترق أمتي علی بضع وسبعین فرقۃ۔۔۔ الحدیث )) [2] [میری امت ستر سے کچھ اوپر فرقوں میں منقسم ہوجائے گی] اس حدیث کو ضرور ائمہ حدیث نے ضعیف یا بے اصل یا موضوع قرار دیا ہے۔ اس کی زیادہ تفصیل"اللٓالیٔ المصنوعۃ" (ص: ۱۸۸) و دیگر کتبِ موضوعات میں ملے گی۔ شاید مولف’’سیرۃ النعمان‘‘ کو ایک حدیث کا دوسری حدیث سے اشتباہ ہوگیا ہو، جو ایک صحیح حدیث کو موضوع کہہ دینے کا سبب ہوگیا اور یہ کچھ عجیب بات نہیں ہے۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما پر شیعہ کے اعتراضات کا جواب: سوال: حضرت ام المومنین عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما نے افشائِ راز پیغمبر خدا کا کیا، جس کی خبر الله تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۂ تحریم میں بتاکید توبہ دی ہے اور بعدہ الله تعالیٰ نے فعل کو ان کے بلفظ کفر تعبیر فرما کر مثال اُن ہر دو بزرگواروں کی ساتھ زنانِ نوح و لوط علیہ السلام کے دی ہے، جو دونوں کافرہ تھیں اور وہ دونوں حالتِ کفر میں مریں ، پس ایسی نص صریح کے مقابلے میں کس آیت قرآنی سے اُن کی توبہ کا ثبوت ہوگا؟ امید ہے کہ ثبوت اس کا نص قرآنی سے فرمایا جائے گا، چونکہ یہ اعتراض شیعوں کی جانب سے ہے۔ اگر انھیں کی معتبر کتابوں سے ثابت کیا جائے تو بہت خوب ہوگا۔ جواب: اس سوال میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر دو الزام قائم کیے گئے ہیں اور ان دونوں الزاموں کی نسبت قرآن میں نص صریح کے وجود کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اول: ان دونوں بیبیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش کیا اور اس وجہ سے الله نے توبہ کا حکم نازل کیا تو جب تک ان کی توبہ قرآن سے ثابت نہ ہو، اس وقت تک قابلِ تسلیم نہیں ۔ دوم: الله تعالیٰ نے ان دونوں بیبیوں کے فعل کی تعبیر بلفظ کفر کی ہے اور ان کی مثل زنانِ نوح اور لوط علیہ السلام کے ساتھ دی ہے۔ الزام اول دو وجہ سے مدفوع ہے: اولاً: کسی آیت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا افشائِ راز کیا، بلکہ سورت تحریم میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الله تعالیٰ نے عتاب کے قالب میں خطاب فرمایا ہے کہ اپنی بیبیوں کی خاطر سے الله کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کیوں کرتے ہو؟ قال اللّٰه تعالیٰ:﴿ٰٓیاََیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ﴾ [التحریم: ۱] [1] الضعفاء للعقیلي (۴/ ۲۰۱) لسان المیزان (۶/ ۵۶) [2] الضعفاء للعقیلي (۴/ ۲۰۱) تفصیل کے لیے دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۱۰۳۵)