کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 737
وارث کو محروم کرنا حرام ہے: سوال: ماں یا باپ امور دنیاوی میں اپنی اولاد سے اگر ناخوش ہوں اور اس ناخوشی کی وجہ سے اپنی جائداد ان کو نہ دیں ، بلکہ اپنے پوتے وغیرہ کو دے دیں تو ماں باپ کا شرعاً یہ دینا کیسا ہے اور پوتے وغیرہ کا لینا کیسا ہے اور جو لوگ کوشش اس اَمر کی کریں کہ ماں باپ اپنی جائیداد اپنی اولاد کو نہ دیں تو وہ لوگ کیسے ہیں ؟ جواب: وارث کو میراث سے محروم کرنا بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے گا، الله تعالیٰ اس کو قیامت کے دن جنت کی میراث سے محروم کرے گا۔ عن أنس رضی اللّٰه عنہ قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( من قطع میراث وارثہ، قطع اللّٰه میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ )) [1] (رواہ ابن ماجہ، و رواہ البیھقي في شعب الإیمان عن أبي ھریرۃ، مشکوۃ شریف، ص: ۲۵۸) [انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے گا تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کی جنت کی میراث سے محروم فرما دے گا] جو لوگ اس امر میں کوشش کریں کہ ماں باپ اپنی اولاد کو میراث سے محروم کریں ، وہ لوگ سخت گنہگار ہیں ۔ سورۂ مائدہ رکوع اول میں ہے:﴿ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ [المائدۃ: ۲] یعنی گناہ اور زیادتی پر آپس میں مدد نہ کرو۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ) سوتیلی ماں کے حصے سے وراثت: سوال: زید اپنی سوتیلی ماں کے حصے سے حصہ پا سکتا ہے یا نہیں ؟ جیسا کہ ہندہ چھوڑ گئی بعد موت کے دو لڑکے، دونوں الگ ماں سے ہیں ۔ باپ ایک ہے۔ اب دوسرا لڑکا اس ہندہ سوتیلی ماں کا حصہ لے سکتا ہے کہ نہیں ؟ ہندہ کا لڑکا عمرو سوتیلے لڑکے زید کو حصہ دینے سے منکر ہے۔ صورت یہ ہے: ہندہ ابن عینی ابن علاتی عمرو زید جواب: ہندہ کے عینی لڑکے کا یہ بیان کہ ’’ہندہ کا سوتیلا بیٹا ہندہ کے ترکہ سے نہیں پا سکتا‘‘ واقعی اور صحیح ہے۔ مسئلہ شرعی یہی ہے۔ و اللّٰه أعلم وعلمہ أتم۔ کتبہ: محمود، عفا اللّٰه عنہ۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه مشترکہ جائداد کی تقسیم اور کاروبار میں زیادہ محنت کرنے والا بیٹا: سوال: زید کے چار لڑکے عمرو، بکر، خالد، ولید ہیں ، جن میں سے عمرو اپنے باپ اور بھائیوں سے بالکل الگ رہنے لگا، [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۷۰۳) اس کی سند میں ایک راوی ’’عبد الرحیم بن زید‘‘ متروک اور دوسرا راوی ’’زید العمی‘‘ ضعیف ہے، لہٰذا یہ حدیث سخت ضعیف ہے۔