کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 727
جواب: اس صورت میں اگر ہندہ کے وارث موجود نہیں ہیں ، تب خیرات کرنا بکر کا ہندہ کی طرف سے درست ہے اور اگر ہندہ کے ورثہ موجود ہیں تو وہ مال وارثوں کا ہوگیا، کیونکہ یہ مال ہندہ کا متروکہ ہے اور جو مال متروکہ ہوتا ہے، وہ حق ورثہ کا ہوتا ہے، اس لیے یہ بھی حق ورثہ کا ہے، پس اگر ورثہ کو دے دے گا یا ورثہ معاف کر دیں گے، تب مواخذہ نہ ہوگا اور اگر نہ دے گا یا ورثہ معاف نہ کریں گے تو ورثہ مستحق اس مال کے قیامت میں ہوں گے اور بکر سے مواخذہ ہوگا۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد حنیف۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ملازم کو رشوت دینا: سوال: مستغیث لوگ موافق دستور کے ایک روپیہ محرر تھانہ کو دیا کرتے ہیں ، تحریر کے لقب سے، یہ رشوت میں داخل ہے یا نہیں ؟ اور یہ روپیہ لینا قانوناً جرم بھی ہے اگر باضابطہ شہادت گزرے تو سزا بھی ممکن ہے۔ جواب: اس قسم کی تحریر کا روپیہ لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ محرر تحریر ہی کے عوض میں تنخواہ لیتا ہے، پھر تحریر کے لقب سے کچھ اور لینا ناجائز ہے۔ عن أبي حمید الساعدي رضی اللّٰه عنہ قال: استعمل النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم رجلا من بني أسد یقال لہ: ابن اللتبیۃ، علی صدقۃ، فلما قدم قال: ھذا لکم، وھذا أھدي لي، فقام النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم علی المنبر فحمد اللّٰه وأثنی علیہ، ثم قال: (( ما بال العامل نبعثہ فیأتي فیقول: ھذا لک وھذا لي، فھلا جلس في بیت أبیہ وأمہ فینظر أیھدی لہ أم لا؟)) [1] الحدیث بخاري شریف باب ہدایا العمال (ص: ۱۰۶۴، مطبوعہ نظامی) ’’ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کو جس کو ابن لتبیہ کہا کرتے ہیں ، تحصیلدار کر کے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ یہ مال حضور کا ہے اور یہ مجھ کو ہدیہ دیا گیا ہے، تو آپ نے منبر پر یہ فرمایا کہ کیا حال تحصیلداروں کا ہے کہ ہم ان کو تحصیل کے لیے بھیجتے ہیں تو وہ آکر کہتے ہیں کہ یہ مال آپ کا ہے اور یہ میرا ہے؟ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھے، پھر دیکھتے کہ ان کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟‘‘ (آخر حدیث تک) و اللّٰه أعلم بالصواب۔ حررہ: محمد حنیف المحمد آبادي وفاہ اللّٰه ذو الأیادي۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ صح الجواب، و اللّٰه أعلم بالصواب۔ حررہ: راجي رحمۃ اللّٰه أبو الہدی محمد سلامت اللّٰه الأعظم گڈھی۔ گھریلو جانور کا دوسروں کا اناج وغیرہ کھانا: سوال: کبوتر و مرغیات و بط جن کو بیشتر لوگ پرورش کرتے ہیں اور خوراک نہیں دیتے ہیں یا خوراک مالا یکفی دیتے [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۴۵۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۳۲)