کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 722
کتبہ: أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔ عفا اللّٰه عنہ۔ الأجوبۃ صحیحۃ۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ المجیب مصیب عندي، و اللّٰه أعلم بالصواب۔ أبو محمد إبراہیم، مہتمم مدرسہ أحمدیہ، آرہ۔ حلال جانور کا چمڑا اُتارنا: سوال: حلال چیز یعنی گائے اور بھینس مرجانے کے بعد اس کا چمڑا نکالنا چاہیے یا نہیں ؟ جواب: حلال جانور کے مرجانے کے بعد اس کا چمڑا نکال لینا چاہیے۔ عن میمونۃ رضی اللّٰه عنہا قالت: مر رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم بشاۃ یجرونھا، فقال: (( لو أخذتم إھابھا؟ )) فقالوا: إنھا میتۃ! فقال: (( یطھرھا الماء والقرظ )) [1] (أخرجہ أبو داود والنسائي۔ بلوغ المرام، ص: ۵، مطبوعہ بھوپال) [میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گزرے، جس کو لوگ گھسیٹے جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم اس کا چمڑا ہی اُتار لیتے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مردار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور قرظ (کیکر کی مانند ایک درخت جو چمڑا صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) اسے پاک کر دیتا ہے] تائب ہونے کے بعد سود کا پیسا حلال ہے: سوال: ایک آدمی نے سود سے پیسہ جمع کیا اور الله نے یک بیک ہدایت کیا تو توبہ کر ڈالا اور سود چھوڑ دیا، اب وہ پیسہ کیسا ہے؟ جواب: جس آدمی نے سود سے پیسہ جمع کیا تھا اور بتوفیقِ خداوندی سود سے تائب ہوگیا تو اب وہ پیسہ حلال ہوگیا: ﴿ فَمَنْ جَآۂ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَھٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ﴾ [البقرۃ: ۲۷۵] [پھر جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت آئے، پس وہ باز آجائے تو جو پہلے ہو چکا، وہ اسی کا ہے] تائب ہونے کے بعد زنا والی آمدن حلال ہے: سوال: ایک عورت نے زنا سے پیسہ جمع کیا اور پھر توبہ کر ڈالی، اب اس پیسے سے زکوۃ دے سکتی ہے اور حج کر سکتی ہے اور صدقہ دے سکتی ہے اور کھانا کھلا سکتی ہے یا نہیں اور کھانے والے پر الزام شرعی آسکتا ہے یا نہیں ؟ جواب: جس عورت نے زنا سے پیسہ جمع کیا اور پھر بتوفیقِ الٰہی اس سے تائب ہوگئی تو وہ پیسہ بھی حلال ہوگیا: ﴿اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴾ [الفرقان: ۷۰] [مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل تو یہ لوگ ہیں ، جن کی برائیاں الله نیکیوں میں [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۱۲۶) سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۷۵)