کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 713
(( مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا )) [1] [جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں ] طبرانی کا لفظ بروایت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ یہ ہے: (( مَنْ غَشَّ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنْھُمْ )) [2] کذا في الترغیب والترھیب للإمام الحافظ عبدالعظیم المنذري۔ [جس نے مسلمانوں کو دھوکا دیا تو وہ ان میں سے نہیں ] ’’مجمع البحار‘‘ میں ہے: ’’الغش ضد النصح أي لیس من أخلاقنا، ولا علی سنتنا‘‘[3] اھ [دھوکا خیر خواہی کی ضد ہے، یعنی دھوکا دینے والا ہمارے اخلاق پر کاربند اور ہماری سنت پر گامزن نہیں ہے] نیز ’’مجمع البحار‘‘ میں ہے: ’’وھي (أي النصیحۃ) کلمۃ یعبر بھا عن جملۃ ھي إرادۃ الخیر للمنصوح لہ‘‘[4]اھ[وہ ایسا کلمہ ہے جس کے ساتھ ایک جملے کو تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ منصوح لہ کے لیے خیر و بھلائی کا ارادہ کرنا] ترجمہ حدیث یہ ہے: ’’جو شخص ہم مسلمانوں کی بدخواہی کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ مجمع البحار میں ہے: یعنی وہ ہمارے اخلاق والوں میں سے نہیں ہے اور نہ وہ ہماری سنت و طریقہ پر ہے۔‘‘ العیاذ باللّٰه منہ، و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ الجواب صحیح۔ شیخ حسین بن محسن عرب۔ الجواب صحیح۔ محمد ضمیر الحق، عفي عنہ۔ منتظم کی فرمانبرداری: سوال: زید مذہباً اہلِ حدیث ہے۔ مدت سے ایک عام تقویٰ شعار کو عقیدتاً اپنا مقتدا اور خلیفہ دین مانتا آیا۔ اب کسی دنیاوی معاملے میں سردار کو اپنے عندیہ میں اپنے حق کے خلاف پا کر اُس نے بیعت توڑ دی اور آزادانہ زندگی بسر کرتا ہے۔ سنا جاتا ہے کہ زید سردار کی تضحیک و تذلیل بھی کرتا ہے، لیکن صوم و صلاۃ کا اب تک ایسا ہی عامل ہے، جیسا کہ زیرِ اطاعت سردار پابند تھا۔ پس شرعاً اس کے ساتھ سلام و کلام کرنا اور نماز میں اس کی اقتدا کرنی وغیرہ جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: اس مسئلے میں سردار جو حکم کر دے، اُس پر لوگ کاربند ہوں ۔ یہ مسئلہ سردار کے انتظام سے تعلق رکھتا ہے۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۴؍ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ) مسئلہ بیعت: سوال: ایک عالم تقویٰ شعار، جس عالم کی سند و اجازت و خلافت شرعاً معتبر ہے، ان سے سند و اجازت و خلافت [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۱) [2] المعجم الکبیر (۱۸/ ۳۵۹) مسند أبي یعلیٰ (۲/ ۲۳۳) اس کی سند میں حکم بن عتیبہ اور قیس بن ابی غرزہ کے درمیان انقطاع ہے اور ایک راوی ’’معاویۃ بن میسرۃ بن شریح‘‘ کی توثیق نہیں ملی۔ دیکھیں : الجرح والتعدیل (۸/ ۳۸۶) [3] مجمع بحار الأنوار (۳/ ۲۵) [4] مجمع بحار الأنوار (۳/ ۳۶۱)