کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 705
کرتے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہ لوگ فی الشرع مذموم ہیں یا موصوف؟ موافق ادلہ شرعیہ جواب تحریر ہو۔ 4۔ ان میں بعض ایسے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو برا کہتے ہیں ۔ اگر وہ برے تھے یا صلحاے سلف کا برا کہنا ثواب ہو، اطلاع دیجیے۔ ہم لوگوں نے جو مسائل فقہ کے خلافِ حدیث تھے، ترک کیے، حدیث پر عمل کیا۔ ہم برا کہنا صلحاے سلف اور خلف سب کا مذموم اور معیوب فی الدین جانتے ہیں ۔ 5۔ جو شخص کسی عالم متبع شریعت اور مروج سنن مصطفویہ کو بد دین کہے، وہ شخص کیسا ہے؟ مدلل بآیات و حدیث جواب ارشاد ہو۔ 6۔ آیت﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی﴾ کا شانِ نزول کیا ہے؟ 7۔ اگر کوئی شخص دراز اللحیہ جس کے بال پھٹ کر خراب ہوتے ہوں ، کسی قدر کترا ڈالے تو عند الشرع جواز اس کا ہے یا وہ شخص ملامت کیا جائے؟ بعد کترانے کے بھی ڈاڑھی ہنوز یکمشت سے زائد باقی ہے اور ہمیشہ کترانے کا عادی نہیں ہے، نہ اُس کے قصد کا عازم ہے؟ 8۔ ایک شخص کہتا ہے کہ مرتکبانِ کبیرہ جو بدون توبہ مر گئے ہیں ، اُن پر عذاب ہونا ضرور ہے۔ دوسرا کہتا ہے، مرتکبانِ کبائر کے واسطے قرآن و حدیث میں وعید آئی ہے۔ الله تعالیٰ کو اختیار ہے، چاہے عذاب کر لے، چاہے بدون عذاب محض بفضل و کرم اپنے یا بذریعہ شفاعتِ شافعان بخش دے، اس میں کس کا قول حق اور صواب ہے؟ کیا حدیث میں (( إن شاء عذبہ وإن شاء غفرلہ )) اور قرآن میں ﴿یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ﴾ نہیں آیا؟ یہ بات مجرمانِ کبائر کے واسطے ہونا ضروری ہے۔ یہ عقیدہ اہلِ سنت کا ہے یا معتزلہ کا؟ اور گناہ کبیرہ بھی﴿مَا دُوْنَ ذٰلِکَ﴾ کے تحت میں داخل ہے یا نہیں ؟ جواب: 1 و5 مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کی شان میں اس طرح کے الفاظ ’’کافر، مردود و بد دین‘‘ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی شان میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو جس کی شان میں استعمال کیا ہے، اگر وہ در حقیقت ایسا نہیں ہے تو کہنے والے ہی پر وہ الفاظ لوٹ پڑتے ہیں ۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایسے الفاظ کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔ کتاب ’’الترغیب والترہیب‘‘ (ص: ۵۰۳) للحافظ المنذري میں ہے: عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( إذا قال الرجل لأخیہ: یا کافر! فقد باء بھا أحدھما، فإن کان کما قال، وإلا رجعت علیہ )) [1] (رواہ مالک و البخاري ومسلم و أبو داود والترمذي) [سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کو کہے ’’اے کافر! تو ان میں سے کوئی ایک ضرور (ایمان سے) کفر کی طرف لوٹا، اگر وہ جسے یہ کہا گیا ایسا ہے تو وہ کفر کی طرف لوٹا، ورنہ یہ حکم کہنے والے کی طرف لوٹ آتا ہے] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۷۵۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۰)