کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 697
شقي، الناس کلھم بنو آدم، و آدم من تراب )) [1] (رواہ أبو داود والترمذي) [یقینا الله نے آبا و اجداد پر تمھارے جاہلی فخر و غرور کو ختم کر دیا ہے، بس وہ (فخر کرنے والا) مومن متقی ہے یا فاجر بدبخت، تمام لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے (پیدا ہوئے) ہیں ] اور بھی مشکوۃ (ص: ۴۱۰) میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لیس لأحد علی أحد فضل إلا بدین و تقویٰ )) [2]و الله تعالیٰ أعلم۔ [دین اور تقوے کے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۶؍ شعبان ۱۳۳۱ھ) سلام کرنے کا مسنون طریقہ: سوال: سلام علیک بشرع شریف بچہ گو نہ جائز ست و اتباع کسے بزرگ و ولی بخلاف قول حق و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و استدلال آور دن از آن بکدامی مسائل چہ حکم دارد جائز ست یا نہ و بہنگام گفتن السلام علیکم پشت خم کردن و دست برداشتن تا سینہ یا تا پیشانی ویکے را ازینہا لازم و ملزوم دانستن و بجہت اظہار عجز و تعظیم آداب و بندگی را ترجیح دادن و سلام علیک را معیوب و مسلم را متکبر پندا شتن جائز ست یا نہ؟ بینوا مستندین بالکتاب تؤجروا عند اللّٰه بحسن المآب۔ [سوال: شرع شریف میں سلام علیک کس طرح سے کرنا جائز ہے؟ قولِ حق اور فعلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف کسی بزرگ یا ولی کا اتباع کرنا اور ان سے استدلال کرنا کن مسائل میں کیا حکم ہے، جائز ہے یا نہیں ؟ السلام علیکم کہتے وقت کمر کو جھکانا اور ہاتھ کو سینے یا پیشانی تک اٹھانا اور ان میں سے کسی کو لازم و ملزوم ٹھہرانا، عجز و تعظیم کے اظہار میں آداب و بندگی کو ترجیح دینا اور سلام علیک کو معیوب اور سلام کرنے والے کو متکبر خیال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟] جواب: اتباع کسے بخلاف قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز جائز نیست چہ او تعالیٰ ہمہ کس را کہ او تعالیٰ را دوست دارد مامور باتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمودہ است در سورۂ آل عمران (رکوع ۴) مذکور ست: ﴿ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ﴾ وارسال رسل ۔علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام۔ براے ہمیں اتباع و اطاعت است او تعالیٰ در سورۂ نساء (رکوع ۹) فرمودہ:﴿ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ﴾ [النساء: ۶۴] واطاعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عین اطاعت خدا ست جل و علا چنانچہ در سورۂ نساء (رکوع ۱۱) مے فرماید:﴿ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ﴾ [النساء: ۸۰] پس مخالفت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عین مخالفت خداے عزو جل باشد و اتباع کسے بخلاف قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۱۱۶) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۲۷) [2] مسند أحمد (۴/ ۱۵۸)