کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 694
قانونِ مذکور کو امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں زیرِ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : (( إن کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لیحب التیمن في طھورہ إذا تطھر، وفي ترجلہ إذا ترجل، وفي انتعالہ إذا انتعل )) وفي روایۃ: (( یحب التیمن في شأنہ کلہ )) [1] الحدیث۔ [ بلاشبہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ جب وضو کریں تو دائیں طرف سے شروع کریں اور جب کنگھی کریں تو دائیں طرف سے کنگھی کرنا شروع کریں اور جوتا پہنیں تو پہلے دایاں جوتا پہنیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے تمام کاموں میں بھی دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے] بوضاحتِ تمام تحریر فرمایا ہے۔ عبارت شرح صحیح مسلم کی یہ ہے: ’’ھذہ قاعدۃ مستمرۃ في الشرع، وھي إن ما کان من باب التکریم والتشریف کلبس الثوب والسراویل والخف، ودخول المسجد، والسواک، والاکتحال، وتقلیم الأظفار، وقص الشارب، وترجیل الشعر، وھو مشطہ، ونتف الإبط، وحلق الرأس، والسلام من الصلاۃ، وغسل أعضاء الطھارۃ، والخروج من الخلاء، والأکل، والشرب، والمصافحۃ، واستلام الحجر الأسود، وغیر ذلک مما ھو في معناہ، یستحب التیامن فیہ، وأما ما کان بضدہ کدخول الخلاء، والخروج من المسجد، و الامتخاط والاستنجاء، وخلع الثوب والسراویل والخف، وما أشبہ ذلک فیستحب التیاسر فیہ، وذلک کلہ لکرامۃ الیمین وشرفھا‘‘[2]انتھی [یہ شرع میں ایک مستقل قاعدہ ہے کہ جو کام تکریم و تشریف کے باب سے ہوں ، جیسے شلوار، قمیص اور موزے پہننا، مسجد میں داخل ہونا، مسواک کرنا، سرمہ لگانا، ناخن تراشنا، مونچھیں کاٹنا، بالوں میں کنگھی کرنا، بغلوں کے بال اُکھاڑنا، سر مونڈھنا، نماز میں سلام پھیرنا، اعضاے وضو کو دھونا، بیت الخلا سے نکلنا، کھانا، پینا، مصافحہ کرنا، حجرِ اسود کااستلام کرنا اور ان کے علاوہ کام جو اس قسم کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں ، ان میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسندیدہ ہے اور جو کام ان کے برعکس ہوں ، جیسے بیت الخلا میں داخل ہونا، مسجد سے نکلنا، ناک صاف کرنا، استنجا کرنا، شلوار، قمیص اور موزے اتارنا اور جو اس قسم کے دیگر کام ہیں ، ان کو بائیں ہاتھ (اور جانب) سے کرنا مستحب ہے۔ یہ سب کچھ دائیں ہاتھ (اور جانب) کی کرامت و شرف کے سبب سے ہے] اس قانونِ شرع کو حضرت سیدی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے بھی ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں ذکر فرمایا ہے۔ ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کی عبارت یہ ہے: [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۸) [2] شرح صحیح مسلم للنووي (۳/ ۱۶۰)