کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 689
’’تاریخ الخلفاء‘‘ (ص: ۱۴۸) میں ہے: ’’وفي الأوائل للعسکري بسندہ کان عبد الملک أول من کتب في صدور الطوامیر قل ھو اللّٰه أحد، وذکر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم مع التاریخ، فکتب ملک الروم إنکم قد أحدثتم في طوامیرکم شیئاً من ذکرکم نبیکم فاترکوہ وإلا أتاکم من دنانیرنا ذکر ما تکرھون، فعظم ذلک علی عبد الملک فأرسل إلی خالد بن یزید بن معاویۃ فشاورہ فقال: حرم دنانیرھم، واضرب للناس سککا فیھا ذکر اللّٰه وذکر رسولہ، ولا تعفھم مما یکرھون في الطوامیر، فضرب الدنانیر للناس سنۃ خمس وسبعین‘‘ و اللّٰه تعالیٰ أعلم [عسکری کی ’’الأوائل‘‘ میں سند کے ساتھ روایت ہے کہ خلیفہ عبد الملک رحمہ اللہ وہ پہلا شخص ہے، جس نے صدور طوامیر پر ’’قل ھو الله أحد‘‘ اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مع تاریخ لکھنا شروع کیا تھا۔ سلطانِ روم نے خلیفہ مذکور کو لکھ بھیجا تھا کہ تم نے اپنی اشرفیوں پر اپنے نبی کا ذکر وغیرہ کیا ہے، لہٰذا تم اس فعل کو ترک کر دو، ورنہ تمھارے پاس ہماری اشرفیاں آئیں گی، جن پر اس چیز کا ذکر ہوگا جو تمھیں ناگوار گزرے گی۔ خلیفہ عبد الملک پر یہ بات بہت گراں گزری۔ اس نے خالد بن یزید بن معاویہ سے مشورہ کیا تو انھوں نے یہ مشورہ دیا کہ ان کی اشرفیوں کو اپنے پاس آنے سے بند کر دو اور لوگوں کے لیے ایسے سکے جاری کرو، جن میں الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو اور جن طوامیر کو وہ ناپسند کرتے ہیں ان کو بند نہ کرو۔ چنانچہ سنہ پچھتر (۷۵) ہجری میں لوگوں کے لیے اشرفیاں جاری کی گئیں ] 2۔ جس ٹوپی پر محمڈن برادر لکھا ہو، اس ٹوپی کو پہن کر پائخانہ میں جانے کے ناجائز ہونے کی کوئی صحیح وجہ معلوم نہیں ہوتی اور یہ جو حدیث ہے کہ ’’کان النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم إذا دخل الخلاء نزع خاتمہ‘‘[1] یعنی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ جاتے تو اپنی انگشتری مبارک کو (جس میں محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منقوش تھا) اتار دیتے تھے۔ سو اس حدیث سے ٹوپی مذکور کو پہن کر پاخانہ میں جانے کی ناجوازی پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔ اولاً: اس وجہ سے کہ اس کو ابو داود نے منکر اور نسائی نے غیر محفوظ کہا ہے اور حدیث منکر اور غیر محفوظ مقبول حدیثوں میں نہیں اور جن ائمہ حدیث نے اس کی تصحیح کی ہے، جیسے ترمذی اور حاکم وہ لوگ باب تصحیحِ احادیث میں متساہل مشہور ہیں ۔ ثانیاً: اس وجہ سے کہ اس حدیث کی اسناد میں ایک راوی ’’ابن جریج‘‘ مدلس ہیں اور انھوں نے اس حدیث کو زہری سے عن کے ساتھ روایت کیا ہے اور راوی مدلس کی معنعن حدیث حجت نہیں ۔ ’’نزہۃ النظر‘‘ میں ہے: [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۷۴۶) سنن النسائي، رقم الحدیث (۵۲۱۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۰۳)