کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 682
جواب: جس طرح مسکر کی نسبت وارد ہے، (( ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام )) [1] یعنی جو چیز مسکر ہے، اس کا جزو بھی حرام ہے۔ مفتر کی نسبت ایسا وارد نہیں ہے اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا، کیونکہ مفتر کے معنی ہیں بدن کو سست اور ضعیف کرنی والی چیز اور اس میں کچھ شک نہیں کہ یہی ماکول جس کو آدمی روز مرہ استعمال کرتا رہتا ہے، اگر قدرِ ہضم سے زیادہ تناول کرے تو قویٰ اس کے ہضم سے عاجز ہو کر ضرور تھک جائیں گے اور ہضم میں فتور ہوجائے گا اور ضعف و سستی اس کو لازم ہے۔ الحاصل قدرِ ہضم سے زائد مفتر ہے، تاہم اس کا جزو، یعنی قدرِ ہضم حرام نہیں ۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔مہر مدرسہ احمدیہ۔ الجواب صحیح۔ محمد عبد الرحمن۔ الجواب صحیح۔ وصیت علی۔ الجواب صحیح۔ محمد ضمیر الحق، عفي عنہ۔ کیا شراب اور تاڑی کا سرکہ اور حرام پیسا تبدیل کرنے کے بعد حلال ہے؟ سوال: 1۔اگر شراب یا تاڑی کا سرکہ بنایا جائے تو وہ حلال ہے یا حرام اور اگر حلال ہے تو کس طرح پر بنایا جائے؟ 2۔ اگر روپیہ رشوت کا ملے اور وہ روپیہ دے کر اس کا پیسہ بدلا لیا جائے تو وہ رشوت ہے یا نہیں ؟ پیسہ بدلا لینے سے اس کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے یا نہیں ؟ جواب: 1۔اگر شراب یا تاڑی خود بخود سرکہ بن جائیں تو اس سرکہ کا کھانا حلال ہے، لیکن تاڑی یا شراب کا سرکہ بنانا جائز نہیں ہے۔ صحیح مسلم (۲/ ۱۶۳) میں ہے: عن أنس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم سئل عن الخمر تتخذ خلا؟ فقال: ((لا )) [2] یعنی انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا سرکہ بنایا جائے؟ فرمایا کہ نہیں ۔ 2۔ حرام چیز، روپیہ ہو یا کوئی دوسری چیز ہو، تبدیل سے حلال نہیں ہوجاتی ہے، یعنی جیسے اصل چیز حرام تھی، ویسے ہی اس کا بدل بھی حرام ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ صحیح بخاری مع فتح الباری (۲/ ۳۹۶) او ر صحیح مسلم (۲/ ۲۳) میں ہے: ((قاتل اللّٰه الیھود، حرم اللّٰه علیھم الشحوم فباعوھا وأکلوا أثمانھا )) [3] یعنی الله لعنت کرے یہودیوں پر۔ الله نے ان پر چربی حرام کر دی تھی، انھوں نے اس کو بیچ کر اُس کا دام کھایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی چیز حرام ہوتی ہے تو اس کا بدل بھی حرام ہوجاتا ہے۔ سنن ابی داود کی حدیث سے یہ امر اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ سنن ابی داود (۲/ ۱۳۷) میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث مذکور کے بعد یہ فرمایا: (( وإن اللّٰه تعالیٰ إذا حرم علی قوم أکل شيء حرم علیھم ثمنہ )) [4] [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۶۸۱) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹۸۳) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۱۱۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۸۳) [4] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۴۸۸)