کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 68
اس حدیث کو ہشام نے عبید الله رازی سے روایت کیا تو اس میں ’’حجام‘‘ کے بعد "أو دباغ"(یا چمڑا رنگنے والا) کے الفاظ کا اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں چمڑا رنگنے والے اس کے خلاف اکٹھے ہوگئے اور انھوں نے اسے قتل کرنے کا تہیا کر لیا۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ روایت منکر اور موضوع ہے۔ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس کو عللِ متناہیہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما تک دو سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ایک میں علی بن عروہ راوی ہے، جسے ابن حبان رحمہ اللہ نے وضع (حدیث بنانا) کے سا متہم قرار دیا ہے اور دوسری سند میں محمد بن فضل بن عطیہ ہے جو متروک ہے۔ پہلی روایت (الکامل) ابن عدی میں ہے اور دوسری دارقطنی میں ہے۔ اس کی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے علاوہ ایک اور سند بھی ہے، جسے بزار رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ عرب ایک دوسرے کے برابر ہیں اور موالی (غلام) آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہیں ۔ اس کی سند میں سلیمان بن ابی جون راوی ہے۔ ابن القطان نے کہا ہے: وہ نامعلوم ہے۔ مزید برآں یہ حدیث خالد بن معدان نے معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، حالانکہ اس نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع ہی نہیں کیا اور اس کے مخالف وہ حدیث ہے جو سنن ابی داود میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اے بنی بیاضہ! ابو طیبہ سے نکاح کرو اور کرواؤ۔ حالانکہ وہ حجام (سینگی لگانے والا) تھا۔ اس کی سند حسن ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔ ایک صحیح حدیث میں مروی ہے کہ حجام کی کمائی خبیث ہے، لیکن کمائی کی خباثت سے پیشے کا ناپاک اور حقیر ٹھہرنا ضروری نہیں ، جیسا کہ ہم نے گذشتہ صفحات میں فتح الباری سے نقل کیا ہے۔ اسی لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نکاح کرنے اور کروانے کا حکم دیا تھا۔ پس جولاہے کی کمائی میں کون سی ناپاکی ہے کہ اسے حقیر اور کم تر کہا جائے؟ حالانکہ وہ حجام سے برتر ہے، جب کہ حجام تو عقلی اور شرعی لحاظ سے گندے خون کو نکالنے کا کام کرتا ہے۔ و اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ أعلم] مسئلہ امامت و بیعت: [1] سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں : 1۔متعدد مواضع کے لوگوں نے ایک عالم متدین کو پسند کر کے اسلامی امور کے بندوبست کے لیے اس کے ہاتھ پر بطوع خاطر بیعت کی اور چند مدت تک تابع داری کرتے آئے۔ اب بعض لوگوں کے اغوا سے بجرم ایں کہ متبوع حقہ نوش وغیرہ کے مکان میں ضیافت کھاتا ہے، لہٰذا بیعت سابقہ توڑ کر دوسرے عالم کے ہاتھ پر کریں تو یہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ 2۔جو لوگ جدوجہد سے لوگوں کو بیعت سابقہ توڑنے کی فتنہ میں ڈالے اور اغوا سے جماعت مستقرہ میں یہ فساد ڈال [1] فتاویٰ علماے کرام دربارہ تقررِ امام۔ مرتبہ: ابو الصمصام محمد عبدالرحمن جھنگوی (ص: ۴۔ ۷)