کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 674
رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن إجابۃ طعام الفاسقین‘‘[1] اھ [عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسقوں کے کھانے کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے] دوسرے یہ کہ اس کا مال مشتبہ ہے اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ حرام سے بچنے کی تاکید فرمائی، ویسا ہی مشتبہات سے بھی بچنے کی تاکید فرمائی، جیسا کہ امام بخاری نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: عن النعمان بن بشیر قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( الحلال بین، والحرام بین، وبینھما مشتبہات، لا یعلمھن کثیر من الناس، فمن اتقیٰ الشبھات استبرأ لدینہ وعرضہ، ومن وقع في الشبھات وقع في الحرام، کالراعي یرعیٰ حول الحمی یوشک أن یقع فیہ۔ ألا إن لکل ملک حمیً، ألا و إن حمی اللّٰه محارمہ، ألا و إن في الجسد مضغۃ إذا صلحت صلح الجسد کلہ، وإذا فسدت فسد الجسد کلہ ألا وھي القلب )) [2] انتھی [نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے والی چیزیں ہیں ، جن سے اکثر لوگ واقف نہیں ہیں تو جس نے شبہے والے چیزوں سے اجتناب کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو کوئی شبہے والی چیزوں میں مبتلا ہوگیا، وہ حرام میں مبتلا ہوجائے گا، جیسے ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد بکریاں چرانے والا، ہوسکتا ہے کہ (نادانستہ طور پر) اس کے اندر (جانور) چرا لے (اور اس طرح مجرم قرار پائے) خبردار! ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے (جس میں عام لوگوں کے جانوروں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے) خبردار! الله تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ سے مراد اس کی حرام کردہ چیزیں (اور کام) ہیں ۔ سن لو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سنو! وہ دل ہے] امام بخاری اس کی تفسیر میں حدیث عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی لایا ہے اور وہ یہ ہے: ’’عن عدي بن حاتم قال: سألت النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم عن المعراض فقال: إذا أصاب بحدہ فکل، وإذا أصاب بعرضہ فلا تأکل، فإنہ وقیذ، قلت: یا رسول اللّٰه ! أرسل کلبي وأسمي فأجد معہ علی الصید کلبا آخر لم أسم علیہ ولا أدري أیھما أخذ؟ قال: لا تأکل إنما سمیت علی کلبک، ولم تسم علی الآخر‘‘[3]انتھی [1] المعجم الکبیر (۱۸/ ۱۶۸) شعب الإیمان (۵/ ۶۸) مشکاۃ المصابیح (۲/ ۲۳۲) اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۵۲۲۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۹۹) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۹۴۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹۲۹)