کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 672
تنقیح نمبر دوم: میں اس دوسری تنقیح کے متعلق کوئی قطعی بات اثباتاً یا نفیاً تحریر نہیں کر سکتا، کیونکہ میں خود نہیں جانتا کہ آیا مرغیاں ایسی بھی ہوتی ہیں ، جن کے گوشت یا پسینے میں بوجہ بکثرت نجاست خواری کے نجاست کا اثر رنگ یا بو یا مزہ ظاہر ہوجاتا ہے یا ایسی نہیں ہوتی ہیں ؟ ہاں بطورِ تعلیق اس قدر البتہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرغیاں ایسی بھی ہوتی ہیں ، جن کا ابھی مذکور ہوا ہے تو جو ایسی ہوں ، ان کے جلالہ ہونے میں کوئی شک نہیں وگرنہ نہیں ، کیونکہ مناط نہی حدیث شریف میں صرف جلالہ ہونے کا وصف ہے تو جس جانور میں یہ وصف پایا جائے، وہ جلالہ ہے، جس کا گوشت کھانا اور دودھ والا ہو تو اس کا دودھ پینا اور سواری کے قابل ہو تو اس پر سواری کرنا، یہ سب داخل نہی ہے اور جس جانور میں یہ وصف نہ پایا جائے، نہ وہ جلالہ ہے اور نہ اس پر احکامِ مذکورہ جاری ہوں گے اور جو روایت کہ بزازیہ سے بحوالہ غایۃ الکلام بدیں عبارت نقل کی گئی ہے: ’’روي عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ یحبس الدجاج ثلاثۃ أیام‘‘[1] [نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ مرغی کو تین دن تک بند کر دیا جائے] اگر یہ روایت پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے تو یہ بلاشبہ قاطع نزاع ہے، لیکن اس کا ثبوت معلوم نہیں ۔ مرغیوں کے قطعاً جلالہ نہ ہونے کی یہ دلیل کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی کا گوشت کھایا ہے، کافی دلیل نہیں ہے، ورنہ شتر اور گاؤ بھی قطعاً جلالہ نہ ٹھہریں گے، کیونکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے شتر اور گاؤ کا گوشت بھی کھایا کھلایا ہے۔ ہاں اگر کسی کا ایجاب کلی کا دعویٰ ہو کہ کل مرغیاں جلالہ ہوتی ہیں تو اس دعوے کے ابطال کے لیے یہ دلیل البتہ کافی ہے، کیونکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مرغی کا گوشت تناول فرمایا تھا، وہ قطعاً جلالہ نہ تھی۔ پس اس دلیل سے یہ سلب جزئی کہ بعض مرغیاں جلالہ نہیں ہیں ، ثابت ہوگیا اور اس سلب جزئی کے ثبوت سے ایجاب کلی کا دعوی جو سلب جزئی کا نقیض ہے، باطل ہوگیا، کیونکہ احد النقیضین کے ثبوت سے دوسرے نقیض کا ثبوت ممتنع ہوجاتا ہے، وإلا لزم اجتماع النقیضین، وھو کما تری۔ لیکن کسی کا دعویٰ ایجاب کلی کا نہیں ۔ دعوتِ ختنہ بدعت ہے یا نہیں ؟[2] سوال: دعوتِ ختنہ بدعت ہے یا نہیں ؟ جواب: دعوتِ ختنہ کے متعلق سوال صرف اس قدر ہے کہ یہ دعوت بدعت ہے یا نہیں ؟ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جو ایک مرفوع حدیث: ’’من طریق مجاھد عن أبي ھریرۃ‘‘ جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے: (( والخرس والإعذار والتوکیر أنت فیہ بالخیار )) [3] (فتح الباري، ص: ۹۲ پ: ۲۱) [1] یہ روایت مرفوعاً نہیں ملی، البتہ اس سلسلے میں سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما کا ایک موقوف اثر مصنف ابن ابی شیبہ (۵/ ۱۴۸) میں مروی ہے۔ [2] یہ فتویٰ مولانا ابو المعالی محمد علی فیضی کی کتاب ’’البیان في تحقیق الجلالۃ و دعوۃ الختان‘‘ (ص: ۲۰، قلمی) سے ماخوذ ہے۔ [3] المعجم الأوسط (۴/ ۱۹۳) اس کی سند میں ’’یحییٰ بن عثمان‘‘ راوی ضعیف ہے۔ (تقریب التھذیب، ص: ۵۹۴)