کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 669
کتاب الاطعمۃ جلالہ کا اطلاق کس جانور پر ہوتا ہے؟ سوال: اقوام اہیر جن کو گوالا بھی کہتے ہیں ، پیشہ دودھ و دہی فروشی کا کرتے ہیں اور قوم ہنود ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے جانور گائے بھینس کو صرف چارہ گھانس اور تل کا فضلہ یعنی کھلی و بھوسہ کھلاتے تھے اور دودھ بھی عمدہ ہوتا تھا، بعد جس قدر سلسلہ گرانی کا شروع ہوا، تب سے گھوڑوں کی لید مسل کچڑ کے کندل کر کے بمقدار کثیر ٹوکروں میں بھر کر اس پر کسی قدر ڈال کر کھلاتے ہیں اور اسی حالت میں ان کا دودھ نچوڑتے ہیں ، چونکہ یہاں بکثرت گھوڑے ہیں ، اس وجہ سے بکثرت مل بھی جاتی ہے اور گل مہوا کو سڑا کر اس کی شراب اتارتے ہیں ، اس کا فضلہ جس میں عفونت ہوتی ہے، وہ بھی بھینسوں کو کھلاتے ہیں ۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ وہ جانور جلالہ کے حکم میں ہو کر اس کے دودھ کا کھانا پینا ناجائز ہوگا یا جائز؟ تحریر فرمائیے۔ جواب: اگر جانور مذکور کے دودھ وغیرہ میں نجس چارہ کی بو یا رنگ یا مزہ باقی ہو تو استعمال سے پرہیز کریں ۔ جانور مذکو رپر ایسی حالت میں جلالہ کا حکم جاری ہوگا اور اگر بو یا رنگ یا مزہ باقی نہ ہو تو استعمال میں لائیں (جانور مذکور پر ایسی حالت میں جلالہ کا حکم جاری نہ ہوگا) حنفی مذہب کی معتبر کتابوں کا یہی خلاصہ ہے۔ لغت کی معتبر کتاب ’’لسان العرب‘‘ میں ہے: ’’إبل جلالۃ تأکل العذرۃ، وقد نھي عن لحومھا و ألبانھا، والجلالۃ البقر التي تتبع النجاسات، ونھی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم عن أکل الجلالۃ ورکوبھا، والجلالۃ من الحیوان التي تأکل الجِلّۃ والعذرۃ، والجلۃ البعر (إلی قولہ) فأما أکل الجلالۃ فحلال إن لم یظھر النتن في لحمھا‘‘[1]اھ [’’اِبل جلالۃ‘‘ اس اونٹ کو کہتے ہیں جو گندگی کھاتا ہے، چنانچہ ایسے اونٹوں کے گوشت کھانے اور دودھ پینے سے منع کیا گیا اور ’’بقر جلالہ‘‘ وہ گائے ہے جو نجاستوں کے درپے ہوتی ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ (جانور کوئی بھی ہو) کھانے اور اس پر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حیوانات میں سے جلالہ وہ ہے جو مینگنیاں اور پاخانہ کھاتا ہے۔ ’’جلہ‘‘ مینگنی (اور لید) کو کہتے ہیں ۔۔۔ پس جلالہ جانور کو کھانا حلال ہے بشرطیکہ اس کے گوشت میں گندگی کے اثرات نہ پائے جائیں ] ایسا ہی عون المعبود حاشیہ سنن ابی داود (۳/ ۴۱۲) میں ہے اور رد المحتار حاشیہ در مختار میں ہے: [1] لسان العرب (۱/ ۶۶۴)