کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 665
جیسا کہ آیات و احادیثِ مذکورہ بالا سے واضح ہے اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ غیر اہلِ ملت سے جو استعانت و استمداد ناجائز ہے تو وہ امور مذہبی میں ناجائز ہے، جن میں اشتراک نہیں ہے، نہ کہ ہر قسم کے امور میں ۔ ترمذی (ص: ۲۰۱) میں ہے: عن عائشۃ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم خرج إلی بدر حتی إذا کان بحرۃ الوبرۃ لحق رجل من المشرکین یذکر منہ جراء ۃ ونجدۃ فقال لہ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( تؤمن ب اللّٰه ورسولہ؟ )) قال: لا۔ قال: (( ارجع فلن أستعین بمشرک)) [1]و اللّٰه أعلم [سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے تو جب وہ وبرہ کی پتھریلی زمین میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مشرک آدمی ملا جو اپنی بہادری اور جراَت میں مشہور تھا، (اس نے لڑائی میں شرکت کی اجازت طلب کی) تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’تو الله اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا: نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جا، میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۵؍ شعبان ۱۳۳۰ھ) وفات کے بعد قرض ورثا کو ادا کرنا ضروی ہے: سوال: زید نے عمرو سے مبلغ سو روپیہ قرض لیا اور عمرو اب مر گیا، اس کا وارث اب موجود ہے اور یہ لوگوں میں عام مشہور ہوچکا ہے کہ عمرو کے پاس بکر کا یک صد روپیہ امانت رکھا ہوا تھا، مگر عمرو نے زید سے روپیہ دیتے وقت یہ نہیں کہا کہ یہ روپیہ ایک کا امانت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ زید مبلغ سو روپیہ قرض گرفتہ شدہ عمرو کے وارث کو دے یا بکر کے وارث کو دے؟ بکر جس نے روپیہ امانت رکھا تھا، وہ بھی مر گیا، اس کا بھی بھائی موجود ہے۔ جواب سے مشرف فرمائیے۔ جواب: اس صورت میں زید مبلغ یک صدر روپیہ جو عمرو سے قرض لیے تھے، عمرو کے وارثوں کو دے، کیونکہ وہ روپے بعد مر جانے عمرو کے عمرو کے وارثوں کے ہوگئے۔ ہاں بکر کے وارثوں کو اگر زرِ امانت کی بابت کچھ مطالبہ کرنا ہو تو وہ عمرو کے وارثوں سے مطالبہ کر سکتے ہیں ۔ و اللّٰه أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۶؍ صفر ۱۳۳۳ھ) کیا کافر کا حرام مال جائز طریقے سے لینا درست ہے؟ سوال: کافر کا کسی طرح کا مال جیسے رشوت یا اور کسی طرح کا ہو، مسلمان کو لینا درست ہے یا نہیں ؟ مگر مسلمان مال کا حال جانتا ہے کہ کس طرح کا ہے؟ جواب: اس صورت میں کافر کا مال بطورِ جائز لینا درست ہے، اگرچہ اس کافر نے جس وجہ سے مال مذکور حاصل کیا ہو، محض ناجائز و نامشروع ہو، بشرطیکہ جس شخص سے کافر نے مال مذکور حاصل کیا ہے، اس شخص کا کوئی حق اس مال سے متعلق نہ ہو، یعنی اس کافر نے جس شخص سے اس مال کو حاصل کیا ہو، برضا و رغبت اس شخص کے حاصل کیا ہو، غصب یا سرقہ یا اس کے مثل دوسرے وسائل سے، جس سے اس شخص کی رضا مندی ثابت نہیں ہوتی، نہ کیا ہو۔ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۱۷) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۵۵۸)