کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 655
گواہ رہنا کہ میں نے معین الحق کو اپنی خدمت کے باعث اور میری تنگی و آسانی کا ساتھی ہونے کے عوض اپنی منقولہ اور غیر منقولہ اشیا میں سے نصف اس کو دے دی ہیں اور باقی نصف عبد الغفور کو۔ پس اس صورت میں یہ ہبہ، ہبہ بلا عوض ہوگا یا ہبہ بالعوض۔ اگر یہ ہبہ بالعوض ہے تو کیا معین الحق مذکور نصف کا مستحق بن سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر یہ وصیت ہے تو وہ کتنے حصے کا مستحق ہوگا؟ یہ بھی مخفی نہ رہے کہ دونوں فریق اپنے باپ اور دادے کی تمام اشیا میں متصرف و قابض ہیں ] جواب: ایں ہبہ خواہ بلا عوض باشد یا بالعوض در ہر دو صورت ہبہ لازم است و حق رجوع ازاں ساقط و معین الحق مستحق آں نصف است کہ جدش خوشحال منڈل باو نجشیدہ و قابض برآں گردانیدہ رفتہ است و ایں ہمہ کہ گفتہ شد ہم موافق حدیث و ہم موافق فقہ حنفیہ است، موافقت حدیث پس ازاں جہت کہ رجوع از ہبہ جائز نیست مگر والد کہ از ہبہ کہ بولد خود کردہ است رجوع کند پس خوشحال منڈل را در حیات خود جائز بود کہ ازاں ہبہ کہ بمعین الحق کردہ بود رجوع میکرد و چون او در حیات خود رجوع نکر د پس دیگر را حق رجوع باقی نماند در مشکوۃ شریف مطبوعہ مجتبائی دہلی (ص: ۲۰۶) است۔ [یہ ہبہ بلاعوض ہو یا بالعوض دونوں صورتوں میں ہبہ لازم ہے اور اس سے رجوع کا حق ساقط ہوچکا ہے۔ لہٰذا معین الحق اس نصف کا مستحق ہے جو اس کے دادے خوشحال منڈل نے اس کو عطا کیا ہے اور اس پر اسے قابض بنا کر دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ یہ جو کچھ کہا گیا ہے، یہ حدیث کے موافق ہے اور فقہ حنفی کے بھی موافق ہے، جہاں تک حدیث کی موافقت کا تعلق ہے تو وہ اس لحاظ سے کہ ہبہ میں رجوع کرنا صرف باپ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو دیے ہوئے ہبے میں رجوع کر لے۔ چنانچہ خوشحال منڈل کو اپنی زندگی میں اس ہبے سے رجوع کرنے کی اجازت تھی کہ وہ معین الحق کو دیے ہوئے ہبے کو واپس لے لیتا۔ پس جب اس نے اپنی زندگی میں اس سے رجوع نہ کیا تو کسی اور کو یہ ہبہ واپس کرنے کا حق نہیں رہا مشکوۃ شریف (ص: ۲۰۶ مطبوعہ مجتبائی دہلی) پر ہے] عن عبد اللّٰه بن عمرو قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( لا یرجع أحد في ھبتہ إلا الوالد من ولدہ )) [1] (رواہ النسائي و ابن ماجہ) [عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے ہبے سے رجوع نہ کرے، مگر والد اپنی اولاد سے (واپس لے سکتا ہے)] و عن ابن عمر و ابن عباس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: (( لا یحل للرجل أن یعطي عطیۃ ثم یرجع فیھا إلا الوالد فیما یعطي ولدہ، و مثل الذي یعطي العطیۃ ثم یرجع فیھا کمثل الکلب، أکل [1] سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۶۸۹) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۳۷۸)