کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 650
میں لفظ مالک کر دینے کا نہیں لکھا ہے، حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ ہبہ کی صحت کسی لفظ کے لکھنے پر موقوف نہیں ہے اور کسی لفظ کا لکھنا صحتِ ہبہ کی شرط نہیں ہے۔ صرف زبان سے لفظِ ہبہ یا لفظِ تملیک یا ایسا لفظ جو اس معنی کو مفید ہو، کہہ دینا کافی ہے، خواہ واہب اس کو لکھ بھی دے یا نہ لکھے۔ ہدایہ میں ہے: ’’وینعقد الہبۃ بقولہ: وھبت، ونحلت، وأعطیت۔۔۔ الخ‘‘[1] [ہبہ اس کے یہ کہنے سے واقع ہوجاتا ہے: ’’وہبت‘‘ (میں نے ہبہ کر دیا)، ’’نحلت‘‘ (میں نے دے دیا) اور ’’أعطیت‘‘ (میں نے عطا کر دیا)] در مختار و کنز الدقائق میں ہے: ’’وتصح بإیجاب کوھبت و نحلت۔۔۔ الخ‘‘[2] [ہبہ ایجاب کے ساتھ صحیح ہے جیسے کہنا: ’’وہبت ‘‘ میں نے ہبہ کر دیا اور ’’نحلت‘‘ میں نے عطا کر دیا] شرح وقایہ میں ہے: ’’وتصح بوھبتہ ونحلتہ وأعطیتہ۔۔ الخ‘‘[3] [ہبہ ’’وہبتہ‘‘ ، نحلتہ‘‘ اور ’’أعطیتہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ واقع ہوجاتا ہے] در مختار میں ہے: ’’وشرائط صحتھا في الواھب العقل والبلوغ والملک (إلی قولہ) وشرائط صحتھا في الموھوب بأن یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول، کما سیتضح، ورکنھا ھو الإیجاب والقبول‘‘[4] [ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے ہبہ کرنے والے میں ان شرائط کا پایا جانا ضروری ہے کہ عاقل ہو، بالغ ہو اور (موہوبہ چیز کا) مالک ہو۔۔۔ موہوب کے لیے ہبہ صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ (موہوبہ چیز) مقبوض ہو، غیر مشترک ہو، ممیز ہو، غیر مشغول ہو، جیسے کہ عنقریب اس کی وضاحت ہوگی اور اس (ہبہ) کے رکن ایجاب و قبول ہیں ] عبارات منقولہ بالا باعلیٰ صوت منادی ہیں کہ صحتِ ہبہ کے لیے صرف زبان سے لفظِ ہبہ کا یا ایسے لفظ کا کہہ دینا کافی ہے، جو مفید تملیک ہو، لکھنا کچھ شرط نہیں ہے۔ لکھے خواہ نہ لکھے، دونوں صورتوں میں ہبہ صحیح ہوجاتا ہے۔ اب فرض کر لو کہ صورت مسؤلہ میں مسماۃ بی بی شرفن واہبہ نے نہ اصالتاً نہ نیابتاً کچھ نہیں لکھا، لیکن جب مسماۃ موصوفہ نے اپنے بڑے بیٹے کو اپنا نائب بنا کر ان سے کہہ دیا کہ ہماری حیات میں سب وارثان کو ہمارے اور سب وارثانِ پسر متوفی کو ہماری کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کو تقسیم کر کے مالک و قابض کر دو اور اس بڑے بیٹے، یعنی نائب مذکور نے [1] الھدایۃ (۳/ ۲۲۴) [2] شرح کنز الدقائق (۵/ ۹۲) [3] شرح الوقایۃ (۲/ ۲۶۴) [4] الدر المختار مع رد المحتار (۵/ ۶۸۸)