کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 643
مضمون کی تائید دوسرے اور دلائل سے بخوبی ہوجاتی ہے اور جس صورت میں کہ وکیل نے اولاً حتی الوسع اس امر کی تحقیقات کر لی کہ مدعی و مدعا علیہ میں سے کون شرعاً برسرِ حق ہے، تب اس کی وکالت قبول کی تو یہ وکالت پہلی قسم میں داخل ہوگی، یعنی یہ صورت وکالت کی جائز ہے۔ و الله تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: أبو العلی محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔ مہر مدرسہ۔ (۵؍ دسمبر ۹۳ھ) مدعی اور مدعا علیہ جھگڑے کے وقت کیا کریں ؟ سوال: زید کا عمرو دین دار ہے۔ جب زید اپنا روپیہ عمرو سے طلب کرتا ہے، عمرو کہتا ہے کہ تم نے ہم کو معاف کر دیا ہے اور زید کہتا ہے کہ ہم نے معاف نہیں کیا ہے۔ کوئی دوسرا شخص معاف کرنے یا نہ کرنے کا گواہ نہیں ہے۔ اس حالت میں عند الله و عند الرسول و عند الناس زید اپنا روپیہ عمرو سے لینے کا مستحق ہے یا نہیں اور عمرو زید کا دین دار ہے یا نہیں ؟ جواب: قانونِ شریعتِ اسلام یہ ہے کہ جب مدعا علیہ مدعی کے دعوے کا انکار کرے تو مدعی اگر اپنا دعویٰ ثابت کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ گواہوں سے ثابت کرے اور جب گواہوں سے ثابت نہ کر سکے، اس سبب سے کہ گواہ موجود نہیں ہیں اور مدعا علیہ سے انکارِ دعویٰ پر حلف چاہے تو مدعا علیہ پر حلف لازم ہے تو اگر مدعا علیہ انکارِ دعویٰ میں سچا ہے تو حلف لے لے اور جب حلف لے لے گا تو مدعی کا دعویٰ ساقط ہو جائے گا اور اگر حلف نہ لے گا تو دعویٰ ساقط نہ ہو گا۔ صورتِ مسؤلہ میں جب عمرو کو تسلیم ہے کہ وہ زید کا دین دار ہے تو عمرو کا بر وقت تقاضا کرنے زید کے یہ کہنا کہ تم نے ہم کو معاف کر دیا ہے، یہ عمرو کا زید پر ایک دعویٰ ہے اور زید کا یہ کہنا کہ ہم نے معاف نہیں کیا ہے، اس کے دعویٰ کا انکار ہے اور جب اس صورت میں عمرو کا کوئی گواہ نہیں ہے، اگر زید سے انکارِ دعویٰ پر حلف چاہے اور زید حلف لے لے یعنی قسم کھا جائے کہ میں نے اپنا دین جو عمرو پر ہے، معاف نہیں کیا ہے تو عمرو کا دعویٰ کہ زید نے اپنا دین معاف کر دیا ہے، ساقط ہوجائے گا اور عمرو زید کا دَین دار اور زید اپنا روپیہ عمرو سے پانے کا مستحق ہوگا اور در صورت حلف نہ لینے زید کے عمرو کا دعویٰ ساقط نہ ہوگا۔ أخرج مسلم عن وائل بن حجر رضی اللّٰه عنہ قال: جاء رجل من حضر موت، ورجل من کندۃ، إلی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال الحضرمي: یا رسول اللّٰه ! إن ھذا غلبني علی أرض، کانت لأبي، فقال الکندي: ھي أرضي في یدي، أزرعھا لیس لہ فیھا حق، فقال صلی اللّٰه علیہ وسلم للحضرمي: (( ألک بینۃ؟ )) قال: لا۔ قال: (( فلک یمینہ )) قال: یا رسول اللّٰه ! الرجل فاجر، لا یبالي علی ما حلف علیہ، ولیس یتورع عن شییٔ، فقال: (( لیس لک منہ إلا ذلک )) فانطلق لیحلف فقال صلی اللّٰه علیہ وسلم لما أدبر: (( أما لئن حلف علی مالہ لیأکلہ ظلما، لیلقین اللّٰه وھو عنہ معرض )) [1] [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۹) یہ تمام عبارت ’’نصب الرایۃ‘‘ سے منقول ہے۔