کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 639
میں ضرر رسانی ہے] صفحہ ( ۵۸۵) میں ہے: لقولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( لا ضرر ولا ضرار في الإسلام )) [1] اھ [آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا] ’’نصب الرایۃ لأحادیث الہدایۃ‘‘ (۲/ ۳۶۳) میں ہے: ’’حدیث: قال صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( لا ضرر ولا ضرار في الإسلام )) قلت: روي من حدیث عبادۃ بن الصامت وابن عباس وأبي سعید الخدري وأبي ھریرۃ وأبي لبابۃ و ثعلبۃ بن مالک و جابر بن عبد اللّٰه و عائشۃ‘‘ اھ [حدیث کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لا ضرر ولا ضرار في الإسلام )) میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث عبادہ بن صامت، ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابو لبابہ، ثعلبہ بن مالک، جابر بن عبد الله اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے] اگر بیع مذکور ابتدائً ہی اصلی قیمت سے زیادہ پر ہوئی تھی، بعد کو قیمت پر زیادت نہیں ہوئی تو اس صورت میں عمرو استحقاق شفعہ اس زمین کا اصلی بازاری قیمت سے نہیں رکھتا۔ واضح رہے کہ عمرو استحقاقِ شفعہ زید کی صرف اسی زمین میں رکھتا ہے، جو عمرو کی زمین سے مشترک غیر مقسوم ہے یا گو مقسوم ہے، لیکن راستہ مشترک ہے، اس کے سوا اور زمین میں استحقاقِ شفعہ نہیں رکھتا۔ صحیح بخاری مع فتح الباری (۲/ ۷۰۶) میں ہے: ’’عن جابر بن عبد اللّٰه قال: قضی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بالشفعۃ في کل ما لم یقسم، فإذا وقعت الحدود و صرفت الطرق فلا شفعۃ‘‘[2] [جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعے کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ کی گئی ہو۔ جب حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں ] ہاں حسبِ مذہب حنفی عمرو اس زمین میں استحقاقِ شفعہ رکھتا ہے، جو گو مقسوم ہے اور راستہ بھی مشترک نہیں ہے، لیکن وہ زمین عمرو کی زمین سے ملصق ہے۔ ہدایہ (۲/ ۳۷۳) میں ہے: ’’الشفعۃ واجبۃ للخلیط في نفس المبیع، ثم للخلیط في حق المبیع کالشرب والطریق ثم للجار‘‘ اھ [شفعہ ایسے خلیط کے لیے واجب ہوتا ہے، جس کی نفس مبیع میں شرکت ہو، پھر ایسے خلیط کے لیے جس کی حقِ مبیع میں شرکت ہو، جیسے شرب اور راستہ، پھر پڑوسی کے لیے شفعہ واجب ہوتا ہے] [1] المعجم الأوسط (۵/ ۳۲۸) نیز دیکھیں : مسند أحمد (۱/ ۳۱۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۳۴۰) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۰۹۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۰۸)