کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 637
رہا ہو کہ ہم شرکا میں سے جو کچھ کوئی پیدا کرے، وہ سب میں مشترک سمجھا جائے تو اس صورت میں زید کا وہ پیدا کردہ مال و اسباب و جائداد جس کو وہ علیحدہ جمع کرتا رہا، سب میں مشترک سمجھا جائے گا اور بوقت تقسیم وہ بھی اور مالوں کے ساتھ ملا کر سب میں تقسیم ہوگا۔ اگر زید اور دیگر مذکورہ بالا لوگوں کے درمیان معاہدہ مذکور نہ رہا ہو، تو اس صورت میں زید کا وہ پیدا کردہ مال و اسباب و جائداد مذکورہ خاص زید کا سمجھا جائے گا، وہ سب میں مشترک نہیں سمجھا جائے گا اور نہ وہ بوقت تقسیم اور مالوں کے ساتھ ملا کر سب میں تقسیم ہوگا، بلکہ صرف دیگر اموال میں تقسیم ہوگی۔ (کتبہ: ۲۱؍ شوال ۱۳۳۱ھ) دھوکے سے حق دار کو شفعہ سے محروم کرنا: سوال: زید نے کچھ زمین بکر سے اس طرح لی کہ زبانی تو اقرار بیع کا کیا اور کاغذ میں رہن لکھا، اس لیے کہ جب بکر کو موقع ہوگا تو زید سے واپس کر لے گا اور بیع کرنے سے بکر کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ اُس کے شرکاء قانونی برتاؤ کا عمل کر کے یعنی شفعہ کر کے زمین کو زید سے نکال لیں گے تو پھر بکر نہیں پا سکتا اور زید سے بکر کو اطمینان ہے، جب چاہے گا روپیہ دے کر زمین لے لے گا اور زید اس زمین کی لگان سرکاری سال بہ سال بکر کو ادا کرتا رہتا ہے اور اُس زمین کے محاصل بعد ادائے مال گزاری سرکار اپنے تصرف میں لاتا ہے، لیکن اگر یہ زمین بکر کے پاس رہتی تو اس کو محاصل زیادہ ملتا، اُس سے جتنا زید دیتا ہے، کیونکہ صرف لگان سرکاری بغرض اس کے کہ زبانی تو بیع لے چکا ہے، دیتا ہے، جتنا کہ بکر سرکار کو دیتا ہے، اسی قدر زید سے پاتا ہے تو ایسی صورت میں اُس زمین کا محاصل بعد اداے لگان سرکاری زید کو اپنے تصرف میں لانا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: صورت مسؤلہ میں اگرچہ جب زید و بکر میں زمین مذکور کی لین دین بطور بیع قرار پائی تو یہ لین دین ایک قسم کی بیع ہوگئی اور زید کو اس زمین کا محاصل اپنے تصرف میں لانا جائز ہوگیا، لیکن یہ فریب و حیلہ و دروغ ہے جو اس صورت میں عمل میں لایا گیا، جس سے حق داروں شفیعوں کا حق مارنا قصد کیا گیا، ناجائز ہے۔ صحیح بخاری (چھاپہ مصر ربع رابع، ص: ۱۶۹) میں ہے: ’’عن أبي رافع أن سعدا ساومہ بیتا بأربع مائۃ مثقال فقال: لو لا أني سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول: (( الجار أحق بسقبہ )) لما أعطیتک‘‘[1] و اللّٰه أعلم بالصواب۔ [ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے چار سو مثقال کے عوض ایک گھر کا ان سے سودا کیا، پھر انھوں نے فرمایا کہ اگر میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ’’پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے (شفع کا) زیادہ حق دار ہے۔‘‘ تو میں تمھیں یہ گھر ہرگز نہ دیتا] کتبہ: محمد عبد اللّٰه سوال: زید علوی ہاشمی نے اپنی زمین مزروعہ و غیر مزروعہ واسطے بطلانِ شفعہ دو چند قیمت سے زیادہ پر خالد کے ہاتھ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۵۷۷)