کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 626
اراضی مملوکہ کے منافع کا بعد اپنی وفات کے مالک بنایا۔ ’’ہي تملیک مضاف إلی ما بعد الموت‘‘ (دیکھو: تنویر الأبصار، متن در مختار، چھاپہ: ۵/ ۴۵۱) [وہ تملیک ہے جو (مالک کنندہ کی) موت کے بعد کی طرف مضاف ہے] زید کا اراضی مذکورہ کو بعد وصیت کے بیع کر دینا اس کی وصیت مذکورہ سے رجوع ہوگیا کہ بعد وصیت کے موصی کی ایسی کوئی کارروائی جس سے موصی بہ اس کے ملک سے نکل جائے، رجوع عن الوصیۃ سمجھی جاتی ہے اور بیع اسی قسم کی کارروائی ہے۔ ’’وکل تصرف أوجب زوال ملک الموصي فھو رجوع کما إذا باع العین الموصی بہ ثم اشتراہ‘‘ (دیکھو: ہدایہ جلدین أخیرین، چھاپہ مصطفائي، ص: ۶۴۴) [ہر ایسا تصرف اور کارروائی جس سے وہ موصی کی ملک سے نکل جائے، وہ رجوع تصور ہوگی، مثلاً: جب وہ موصی بہ کو فروخت کر کے پھر اسے خرید لے] موصی کو وصیت سے رجوع کرنا اس لیے جائز ہے کہ وصیت ایک قسم کا ناتمام تبرع ہے اور ایسے تبرع سے رجوع کرنا جائز ہے۔ ’’ویجوز للموصي الرجوع عن الوصیۃ لأنہ تبرع لم یتم فجاز الرجوع عنہ‘‘ (دیکھو: ہدایہ، صفحہ مذکورہ) [وصیت کنندہ کے لیے وصیت سے رجوع کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ غیر مکمل تبرع ہے، لہٰذا اس (تبرع) سے رجوع کرنا جائز ہے] کتبہ: محمد عبد اللّٰه اگر وکیل شروطِ بیع کی مخالفت کرے تو وہ ضامن ہے: سوال: زید اپنا روپیہ عمرو کو واسطے تجارت کے اس شرط پر دے کر سفرِ حج کو چلا گیا کہ اس روپے سے اسی شہر میں خرید و فروخت کرنا، دوسرے شہر میں ہر گز نہ کرنا، اس میں جو نفع ہوگا، نصف تمھارا اور نصف ہمارا ہوگا، لیکن عمرو نے زید کے کہنے کے خلاف دوسرے شہر میں تجارت کیا۔ جب زید سفرِ حج سے واپس آیا، عمرو نے زید سے کہا کہ تمھارا کل روپیہ نقصان ہوگیا، چونکہ عمرو اس وقت محض مفلس شخص تھا، زید اس سے کیا لیتا، مگر اب زمانہ بتیس سال پر عمرو بہت مالدار ہوگیا ہے، اس صورت میں زید عمرو سے اپنا وہ روپیہ لینے کا مستحق ہے یا نہیں ؟ جواب: اس صورت میں زید عمرو سے اپنا وہ روپیہ لینے کا مستحق ہے: ’’وإن خص لہ رب المال التصرف في بلد بعینہ أو في سلعۃ بعینھا لم یجز لہ أن یتجاوزھا (إلی قولہ) فإن خرج إلی غیر تلک البلدۃ فاشتری ضمن۔۔ الخ‘‘[1]کذا في الھدایۃ [اگر مال والا کسی خاص شہر اور خاص قسم کے سامان میں تجارت کرنے کی قید لگائے تو (تاجر کو) اس سے تجاوز کرنا جائز نہ ہوگا۔۔۔ پس اگر وہ اس شہر سے کسی اور شہر میں (بغرض تجارت) جائے اور من جملہ سامان کے خریداری کرے تو ضامن ہو گا] وفي المنتقیٰ: ’’وعن حکیم بن حزام صاحب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ کان یشترط علی [1] الھدایۃ (۳/ ۲۰۴)