کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 621
وبنسیئۃ بعشرین، ولا یفارقہ علی أحد البیعین، فإذا فارقہ علی أحدھما فلا بأس إذا کانت العقدۃ علی واحد منھما‘‘ انتھی [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی (مذکورہ بالا) حدیث، حسن صحیح ہے۔ اہلِ علم کے ہاں اسی پر عمل ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے: ایک سودے میں دو سودے اس طرح ہوتے ہیں کہ وہ کہے: میں تمھیں یہ کپڑا نقد دس (درہم وغیرہ) میں فروخت کرتا ہوں اور ادھار بیس کا اور وہ ان دونوں میں سے کوئی ایک سودا قبول کیے بغیر جدا ہوجائے۔ پس اگر وہ کوئی ایک سودا قبول کر کے جدا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جب کہ ان میں سے کوئی ایک سودا طَے ہوجائے] 3۔ زمیندار کو مال گزاری دے کر جو منفعت مرتہن کو اس زمین سے حاصل ہوگی، وہ سب سود ہے۔ مشکوۃ شریف (ص: ۲۳۶) میں ہے: عن عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰه عنہ قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : الذھب بالذھب، والفضۃ بالفضۃ، والبر بالبر، والشعیر بالشعیر، والتمر بالتمر، والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء یدا بید فإذا اختلفت ھذہ الأصناف فبیعوا کیف شئتم إذا کان یدا بید )) [1] (رواہ مسلم) و اللّٰه أعلم بالصواب۔ [عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم، جَو کے بدلے جَو، کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں ، جب یہ اصناف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہو تو جیسے چاہے بیچو] کتبہ: محمد عبد اللّٰه کافر یا نصاریٰ سے سود لینا جائز ہے یا نہیں ؟ سوال: کافر یا نصاریٰ سے سود لینا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: سود کے بارے میں جس قدر آیات و احادیثِ صحیحہ وارد ہیں ، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ کافر یا نصاریٰ سے سود لینا جائز ہے، بلکہ ان سب میں یہی ہے کہ سود لینا مطلقاً ناجائز اور حرام ہے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [البقرۃ: ۲۷۵] [اور سود کو حرام کیا] اور یہ حدیث کہ (( لا ربا بین المسلم والحربي في دار الحرب )) [2] [دار الحرب میں مسلمان اور حربی کے درمیان سود نہیں ہے] محض بے ثبوت ہے، اس پر کسی حکم شرعی کی بنا نہیں ہوسکتی۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه في دھلي (۱۳؍ صفر ۱۳۳۰ھ) [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۸۷) [2] دیکھیں : نصب الرایۃ (۴/ ۵۳)