کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 620
ہیں ۔ آیا دس من غلہ دیتے ہو یا تیس روپیہ؟ مشتری بوجہ عدم دستیاب غلہ آیندہ تیس من غلہ دینے کا وعدہ کیا۔ تب بائع نے مشتری سے کہا کہ روپیہ بلا شرط آیندہ کے وعدہ پر نہیں چھوڑوں گا، آیندہ فی روپیہ کیا حساب غلہ دو گے؟ مشتری نے پھر روپیہ من غلہ دینے کا وعدہ کیا۔ اب یہ بیع و شراء شرعاً جائز ہے یا نہیں اور جو دس سے بیس روپیہ انتفاع حاصل ہوئے، سود ہے یا نہیں ؟ 2۔ آنکہ مشتری باستدعائے غلہ نزدیک بائع کے گیا، بائع نے کہا کہ نقد لو گے یا ادھار؟ مشتری نے کہا: ادھار لوں گا۔ تب بائع نے کہا کہ نقد دو روپیہ کے حساب سے فروخت کرتا ہوں اور ادھار بحساب تین روپیہ من۔ مشتری فی من تین روپیہ دینے کا وعدہ پر دس من غلہ لیا۔ یہ بیع شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ 3۔ آنکہ ایک شخص نزدیک ایک شخص کے دس بیگہہ زمین رہن رکھ کر مبلغ سو روپیہ قرض لیا، اس وعدہ پر کہ جس وقت روپیہ ادا کر دوں گا، زمین واپس لوں گا۔ تم مال گزاری زمیندار کو دیجیو اور جائداد وغیرہ اپنے تصرف میں لائیو، پس اثناے رہن رکھنے راہن اور واپس لینے شَے مرہون تک جو انتفاع مرتہن تصرف میں لاتا ہے، وہ منفعت مقبوضہ متصرفہ شرعاً سود ہے یا نہیں ؟ جواب: 1۔ ایسی بیع شرعاً ناجائز ہے او ر جو دس روپیہ سے بیس روپیہ انتفاع حاصل ہوئے، وہ سود ہیں ۔ مشکوۃ شریف (ص: ۲۴۳ چھاپیہ دہلی) میں ہے: عن أبي سعید الخدري رضی اللّٰه عنہ قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( من أسلف في شییٔ فلا یصرفہ إلیٰ غیرہ قبل أن یقبضہ )) [1] (رواہ أبو داود و ابن ماجہ) [ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز میں بیع سلف کرے تو وہ اسے قبضے میں لیے بغیر دوسری چیز (کی بیع) سے تبدیلی نہ کرے] 2۔ یہ بیع شرعاً جائز ہے۔ مشکوۃ شریف (ص: ۲۴۰) میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال: نھی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عن بیعتین في بیعۃ‘‘[2] (رواہ مالک والترمذي وأبو داود والنسائي) [سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودوں سے منع فرمایا] سنن ترمذی (ص: ۱۵۷ چھاپہ دہلی) میں ہے: حدیث أبي ھریرۃ حدیث حسن صحیح، والعمل علی ھذا عند أھل العلم، وقد فسر بعض أھل العلم قالوا: بیعتین في بیعۃ أن یقول: أبیعک ھذا الثوب بنقد بعشرۃ، [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۴۶۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۲۸۳) اس کی سند میں ’’عطیۃ العوفي‘‘ ضعیف ہے۔ [2] موطأ الإمام مالک (۱۳۴۲) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۳۷۷) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۳۱) سنن النسائي، رقم الحدیث (۴۶۳۲)