کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 615
چاول لے تو ایسا لین دین جائز ہے۔ یہ ایک قسم کی بیع ہے جس کو شرع شریف میں بیع سَلَمْ یا بیع سَلَفْ کہتے ہیں ۔ بخاری شریف کی ’’کتاب السلم‘‘ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے: (( من أسلف في شییٔ فلیسلف في کیل معلوم ووزن معلوم إلی أجل معلوم )) [1]و اللّٰه أعلم بالصواب [جو شخص کسی شے میں بیع سلف کرے تو اسے چاہیے کہ معلوم ماپ اور معلوم تول کے ساتھ معلوم مدت کے لیے بیع سلف کرے] کیا گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے؟ سوال: اشیاے مرہونہ سے مرتہن کو کسی صورت میں فائدہ اٹھانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: اشیاے مرہونہ سے مرتہن کو کچھ بھی فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اشیاے مرہونہ سے مرتہن جو کچھ فائدہ اٹھائے، وہ سب داخلِ ربا ہے، جو قطعاً حرام ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ:﴿وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ (البقرۃ: ۲۷۵) [ حالانکہ الله نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا] وعن أنس قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( إذا أقرض أحدکم قرضا فأھدی إلیہ أو حملہ علی الدابۃ فلا یرکبہ، ولا یقبلھا إلا أن یکون جری بینہ وبینہ قبل ذلک )) [2] (رواہ ابن ماجہ والبیھقي في شعب الإیمان) [انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص جب (کسی کو) قرض دے، پھر وہ (مقروض) اسے کوئی تحفہ دے یا سواری کے لیے جانور پیش کرے تو (قرض خواہ کو چاہیے کہ) وہ اس پر سواری نہ کرے اور نہ وہ (تحفہ) قبول کرے، سوائے اس کے کہ ان دونوں میں پہلے سے (تحائف کا) یہ سلسلہ جاری ہو] وعنہ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: (( إذا أقرض الرجل الرجل فلا یأخذ ھدیتہ )) [3] (رواہ البخاري في تاریخہ، ھکذا في المنتقیٰ) [انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص جب کسی شخص کو قرض دے تو وہ (قرض خواہ) اس (مقروض) سے تحفہ نہ لے] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۱۲۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۰۴) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۴۳۲) اس کی سند متعدد علل کی بنا پر ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۱۱۶۲) [3] منتقیٰ الأخبار (۲۷۹۰) مشکاۃ المصابیح (۲/ ۱۴۰) تاریخ کبیر میں یہ حدیث نہیں مل سکی اور نہ اس کی سند ہی معلوم ہو سکی ہے۔ یہ گذشتہ حدیث ہی کا اختصار معلوم ہوتا ہے۔