کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 607
اصل یہ ہے کہ اُدھار کی صورت میں سود اُس وقت ہوتا ہے کہ سودا اور دام دونوں ہم جنس ہوں اور قدر (کیل یا وزن) میں دونوں متفق ہوں ۔ اگر سودا اور دام دونوں مختلف الجنس ہوں تو بھی قدر میں ضرور متفق ہوں اور اگر دونوں مختلف الجنس ہوں اور قدر میں متفق ہوں تو ایسی صورت میں سود نہیں ہوتا، نہ نقد میں نہ اُدھار میں اور صورت مسؤل عنہا میں نہ دونوں ایک جنس ہیں (کیونکہ سودا تانبا پیتل کانسی وغیرہ کی قسم کی چیزوں سے ہے اور دام روپیہ یعنی چاندی ہے) اور نہ دونوں قدر میں متفق ہیں (اس لیے کہ گو چاندی اور تانبا پیتل وغیرہ کا وزن سیر اور پنیری اور من سے ہوتا ہے اور چاندی کا وزن تولہ اور ماشہ سے ہوتا ہے، پس دونوں جس طرح مختلف الجنس ہیں ، مختلف القدر بھی ہیں ) لہٰذا ایسی صورت میں سود نہیں ہے، نہ نقد میں نہ اُدھار میں اور حنفی مذہب میں بھی اُدھار کی یہ صورت جو مندرجہ سوال ہے، جائز ہے، اس میں سود نہیں ہے۔ ہدایہ (۲/ ۸۱ مطبع یوسفی لکھنوی) میں ہے: ’’إذا أسلم النقود في الزعفران ونحوہ یجوز، وإن جمعھما الوزن، لأنھما لا یتفقان في صفۃ الوزن، فإن الزعفران یوزن بالأمناء، وھو ثمن یتعین بالتعیین، والنقود توزن بالسنجات، و ھو ثمن لا یتعین بالتعیین‘‘ انتھی و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [اگر اس نے مال نقد کو زعفران وغیرہ کی بیع سلم میں دیا تو جائز ہے، اگرچہ زرنقد اور یہ چیزیں دونوں وزنی ہیں ، لیکن ان کا جواز اس لیے ہے کہ دونوں کی وزنِ صفت یکساں نہیں ہے، چنانچہ زعفران کو من و سیر سے تولتے ہیں اور وہ ثمن ہے کہ وہ معین کرنے سے متعین ہوجاتا ہے اور نقود کو وزن درم، یعنی مثقال سے تولتے ہیں اور وہ ثمن ہے کہ معین کرنے سے متعین نہیں ہوتا ہے] 2۔ یہ دوسری بیع سلم کی صورت ہے۔ بیع سلم کی بھی صورت جائز ہے۔ عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما قال: قدم رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم المدینۃ، وھم یسلفون في الثمار السنۃ والسنتین والثلاث، فقال: (( من أسلف في شییٔ فلیسلف في کیل معلوم ووزن معلوم إلی أجل معلوم )) [1] (متفق علیہ، مشکوۃ، ص: ۲۴۲) [عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ دو دو تین تین سال پہلے رقم دے کر کھجوریں خرید لیتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجوروں کی بیع سلف کرے تو اسے چاہیے کہ معلوم ماپ اور معلوم تول کے ساتھ معلوم مدت کے لیے بیع سلف کرے] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۶؍ شوال ۱۳۲۹ھ) اتحادِ جنس کی صورت میں غلے کی ادھار خرید و فروخت کرنا: سوال: بیع غلہ کی درصورت اتحادِ جنس میعاد مقرر پر جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی غلہ کے عوض غلہ میعاد مقرر پر برابر لینا دینا۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۱۲۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۰۴)