کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 605
مدرسہ احمدیہ آرہ) میں بہت بسط کے ساتھ کی گئی ہے۔ من أراد الوقوف علی الدلائل فلیرجع إلیہ۔ حررہ: أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن المبارکفوري، عفا اللّٰه عنہ۔ الجواب صحیح۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه ۔ ادھار بیع کی ایک صورت: سوال: بعض مسلمان سود پر روپیہ نہیں دیتے، مگر یہ معاملہ کرتے ہیں کہ تجارت پیشہ لوگوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ چیز نقد روپیہ کے ساتھ کوٹھی داروں سے خرید کر کے ان تجارت پیشہ لوگوں کو کچھ نفع کے ساتھ وہ چیز اُدھار دیتے ہیں ۔ بعض ایسا کرتے ہیں کہ کسی تجارت پیشہ کی معرفت بمبئی یا کلکتہ سے نقد روپیہ کے ساتھ مال منگاتے ہیں ، جس وقت مال پہنچتا ہے تو وہی دکاندار وہ مال کچھ نفع دے کر اُدھار پر اُس سے خریدتا ہے، اس قسم کے معاملات کثرت کے ساتھ جاری ہیں اور اکثر علما جواز کا فتویٰ دیتے ہیں ۔ حدیث: (( بع الجمع بالدراھم، ثم ابتع بالدراھم جنیبا )) [1] [ردی اور ملی جلی کھجوروں کو رقم کے ساتھ الگ بیچو اور پھر رقم کے ساتھ جنیب (عمدہ) کھجوریں خریدو] سے دلیل پکڑتے ہیں ۔ اتحادِ جنس میں سود تھا، آپ نے اختلافِ جنس کی صورت بتلا دی، تاکہ معاملہ صورتِ سود سے نکل جائے۔ یہ بھی واضح رہے کہ تجارت پیشہ لوگوں کا روپیہ والوں سے یہ اقرار بھی ہوتا ہے کہ جس وقت تمھارا مال پہنچے، ہم تم کو کچھ نفع دے کر اُدھار پر خرید لیں گے، غرضکہ ان کی مطلوب چیزیں ان کے لیے اُن ہی کی معرفت طلب کی جاتی ہیں ، بعد پہنچنے کے کچھ قلیل نفع دے کر اُدھار پر خریدتے ہیں ۔ آپ کا اس میں کیا فتویٰ ہے؟ سائل: عبدالجبار غزنوی از امرتسر محلہ غزنویہ۔ جواب: میری دانست میں بھی یہ دونوں صورتیں جائز ہیں ۔ ان کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ مجھے معلوم نہیں ہوتی۔ و الله تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۸؍ رمضان المبارک ۱۳۲۹ھ) تانبے پیتل کے برتنوں کی ادھار خریدو فروخت اور بیع سلم: سوال: 1۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس سودے کے بارے میں اور کیا مطلب ہے اس حدیث کا: (( قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : الذھب بالذھب، والفضۃ بالفضۃ، والبر بالبر، والشعیر بالشعیر، والتمر بالتمر، والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء یدا بید فإذا اختلفت ھذہ الأصناف فبیعوا کیف شئتم إذا کان یدا بید )) [2] (رواہ مسلم) [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم، جَو کے بدلے جَو، کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۰۸۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۹۳) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۸۷)