کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 602
لھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : إنما قال اللّٰه تعالیٰ﴿قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ﴾ وأنتم لا تطعمونہ أن تدبغوہ فتنفعوا بہ فأرسلت إلیھم فسلخت مسکھا فدبغتہ فاتخذت منہ قربۃ حتی تخرقت عندھا‘‘[1]رواہ أحمد بإسناد صحیح۔ اھ فإن اختلج في صدرک أنہ ورد في روایۃ البخاري ومالک في الموطأ وأحمد في مسندہ وبعض طرق النسائي وغیرھم أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال في شاۃ مولاۃ میمونۃ رضی اللّٰه عنہا : ھلا انتفعتم بإھابھا؟ قالوا: إنھا میتۃ قال: إنما حرم أکلھا، ولم یذکر الدباغ فدل ذلک علی أن جلد المیتۃ یحل الانتفاع بہ من غیر حاجۃ إلی دباغہ أزیح ذلک بأنہ قد ورد التقیید بالدباغ في روایات أخری صحیحۃ، والأخبار تفسر بعض طرقھا بعضا فوجب الأخذ بہ۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ حضرت میمونہ کی ایک لونڈی کو صدقہ میں ایک بکری ملی تو وہ مر گئی، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اُتار لیا کہ اس کو رنگ دے کر اس سے فائدہ اُٹھاتے؟ کہنے لگے: یہ تو مر گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا صرف کھانا حرام ہے۔ بخاری اور نسائی کی روایت میں دباغت (رنگ دینے) کا ذکر نہیں ہے۔ احمد کی روایت میں ہے کہ میمونہ کی ایک بکری مر گئی تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اُٹھایا کہ چمڑے کو رنگ کر دینا جانور کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چمڑا رنگ دیا جائے، وہ پاک ہوجاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردار کا چمڑا جب رنگ دیا جائے تو اس سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کے چمڑے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کو رنگ دینا ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چمڑے کا رنگ دینا، اس کے لیے پاکیزگی ہے۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں : اس کی سند اچھی ہے اور راوی ثقہ ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ کی ایک بکری مر گئی تو انھوں نے کہا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بکری مر گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی کھال اُتار لو۔ کہنے لگیں : مردار کی کھال اُتار لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الله نے فرمایا ہے: ’’آپ کہہ دیں جو مجھ پر وحی ہوئی ہے، اس میں تو کوئی چیز کسی کھانے والے پر حرام نہیں ہے سوائے مردار یا بہنے والے خون یا خنزیر کے گوشت کے۔‘‘ اور تم مردار کو کھاؤ گے تو نہیں ، تم اس کی کھال کو رنگ لو اور کام میں لاؤ۔ حضرت سودہ نے اس کی کھال اتروائی اور رنگ کر اس کی [1] مسند أحمد (۱/ ۳۲۷)