کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 600
کتاب البیوع قرض سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے: سوال: ہمارے ملک میں دھان پوس و ماگھ کے مہینے میں اگر ایک من رکھا جائے تو کاتک یا ساون میں سوکھ کر تقریباً ۴ سیر کم ایک من ہوتا ہے، یعنی تقریباً ۴ سیر کم ہوجاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پوس میں دھان کاٹا جاتا ہے، اس وقت کچھ تر ہوتا ہے بوجہ تازگی کے۔ لہٰذا مہاجن لوگ آسن یا کاتک یا ساون میں اگر کسی کو دہان قرض دیتے ہیں تو وعدہ و اقرار کر لیتے ہیں کہ ہم پوس میں وصول کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان لوگ اگر پوس یا اگہن میں وصول نہ دیں تو پھر وصول کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور وصول کرتے وقت فی من ۴ سیر دہان زیادہ لیتے ہیں ، کیونکہ سوکھ کر ایک ہی من ہوگا، گویا ایک ہی من وصول کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس طرح سے زیادہ لینا جائز ہے؟ یہ صورتاً زیادہ ہے، ورنہ حقیقت میں بعد سوکھنے کے ایک ہی من رہتا ہے۔ اگر پوس میں ایک من لیں جتنا دیا تھا تو اس میں مہاجن کا نقصان ہے، یعنی ۴ سیر تقریباً کم ہوجاتا ہے، جو کچھ جواب ہو تحریر فرمائیں ۔ سائل عبدالرزاق موضع جائنکٹو پور۔ ضلع بردوان۔ پوسٹ بھیدیہ (بنگال) جواب: اس صورت میں اس طرح سے زیادہ لینا شرعاً ہر گز جائز نہیں ہے۔ کسان لوگوں کو چاہیے کہ دہان کو سُکھا کر مہاجن کا قرض ادا کریں اور اسی قدر دیں جس قدر ان سے قرض لیا ہے اور مہاجنوں سے دھان قرض لیتے وقت سکھا کر دینے کا وعدہ و اقرار کر لیں ۔ ہذا ما عندي و اللّٰه تعالیٰ أعلم أملاہ محمد عبدالرحمن المبارکفوري، عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ۔ کتے کی خرید و فروخت: سوال: تجارتِ سگ، یعنی کتے کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: سگ کی تجارت ناجائز ہے۔ ’’نصب الرایۃ تخریج أحادیث الہدایۃ‘‘ (۲/ ۱۹۵) میں ہے: ’’أخرج البخاري و مسلم عن أبي مسعود الأنصاري أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نھیٰ عن ثمن الکلب، ومھر البغي، وحلوان الکاھن‘‘[1]و اللّٰه أعلم بالصواب [بخاری و مسلم نے ابو مسعود انصاری سے روایت کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، بدکار عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے سے منع فرمایا ہے] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۱۲۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۶۷)