کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 60
عروۃ، وقد رماہ ابن حبان بالوضع، وفي الأخری محمد بن الفضل بن عطیۃ، وھو متروک، والأولیٰ في ابن عدي، والثانیۃ في الدارقطني، ولہ طریق أخری عن غیر ابن عمر، رواہ البزار في مسندہ من حدیث معاذ بن جبل: (( العرب بعضھا لبعض أکفاء، والموالي بعضھا أکفاء لبعض )) وفیہ سلیمان بن أبي الجون، قال ابن القطان: لا یعرف، ثم ھو من روایۃ خالد بن معدان عن معاذ، ولم یسمع منہ، ویخالف ھذا الحدیث ما رواہ أبو داود من طریق محمد بن عمرو عن أبي سلمۃ عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ مرفوعا: (( یا بني بیاضۃ! انکحوا أبا طیبۃ، وأنکحوا إلیہ، وکان حجاما )) [1]إسنادہ حسن۔ انتھی کلام الحافظ في التلخیص۔[2] وقد ثبت أن کسب الحجام خبیث، ولکن لا یلزم من خباثۃ الکسب خباثۃ المکتسب، ولا کونہ رذیلاً، کما تقدم فیما نقلنا عن فتح الباري، ولھذا أمر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بأن ینکحوہ وینکحوا إلیہ، فالحائک أي خباثۃ في کسبہ، حتی ینسب إلی أنہ رذیل؟ فھو أعلیٰ من الحجام، مع کون الحجام متعاطیا لإخراج الدم المستقذر شرعاً وعقلاً۔ و اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ أعلم[3] [اس سائل کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے صحیح اور غیر صحیح تمام احادیث کو جاننے کا دعویٰ کیا ہے، کیونکہ اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کسی نبی کے متعلق یہ ثابت نہیں کہ وہ جولاہا تھا۔ پھر بالخصوص آدم علیہ السلام کے متعلق اس کا دعویٰ ہے کہ ان کا جولاہا ہونا ثابت نہیں ، پھر اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کاشت کار تھے۔ یہ درحقیقت اس سائل کی ڈھٹائی اور الله اور اس کے رسول پر افترا پردازی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی اِِلَی الْاِِسْلاَمِ﴾ [الصف: ۷] [اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو الله پر جھوٹ باندھے، جب کہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو] نیز فرمایا: ﴿وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤلًا﴾[الإسراء: ۳۶] [اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں ۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہوگا] کیونکہ آدم علیہ السلام کا ان محدثین کے قاعدے کے مطابق جولاہا ہونا کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے کہ جب وہ ثبوت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد صحت ہوتی ہے، بلکہ یہ ایک سخت ضعیف حدیث ہے۔ [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۱۰۲) [2] التلخیص الحبیر (۳/ ۱۶۴) [3] ھذہ الفتیا للشیخ الإمام حسین بن محسن الأنصاري، وھي موجودۃ في فتاواہ المطبوعۃ (۱/ ۴۴(