کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 591
دیانت دار ہو اور اس کام کے ادا کرنے کی پوری لیاقت رکھتا ہو اور شرعی احکام پوری طرح برتتا ہو۔ اگر منصف لوگ ایسا نہ کریں گے، یعنی لائق کو متولی مقرر نہ کریں گے اور نالائق مقرر کریں گے تو ان کی یہ کارروائی شرعاً صحیح نہ ہو گی اور گنہگار بھی ہوں گے۔ ’’رد المحتار‘‘ (۳/ ۴۲۱) میں ہے: ’’وفي أخر الفن الثالث من الأشباہ إذ أولی السلطان مدرسا لیس بأھل لم تصح تولیتہ‘‘ [’’الأشباہ‘‘ کے فنِ ثالث کے آخر میں ہے کہ جب سلطان کسی نا اہل مدرس کو متعین کر دے تو اس کی تولیت درست نہ ہوگی] نیز اسی میں ہے: ’’وصرح البزازي بأن السلطان إذا أعطیٰ غیر المستحق فقد ظلم بمنع المستحق وإعطاء غیر المستحق‘‘[1]اھ و اللّٰه أعلم بالصواب [بزاری نے یہ صراحت کی ہے کہ جب سلطان کسی غیر مستحق کو (عطیہ و منصب وغیرہ) دے تو اس نے مستحق سے روک کر اور غیر مستحق کو دے کر ظلم کیا] کتبہ: محمد عبد اللّٰه سوال: ایک شخص نے ایک مسجد خام بنائی چندے سے اور خود متولی رہا۔ بعدہ بزمانہ دراز مسجد کا ایک کونا شکست ہوگیا۔ تب ایک شخص صاحب مقدور نے برضا مندی متولی مسجد پختہ بنائی اور ایک دکان پختہ بنا کر اپنے بیٹے کو متولی اور دستاویز تولیت نامہ لکھ دیا، اب اس وقت دونوں میں مقدمہ فوجداری دائر ہے۔ متولی سابق کا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا حق ہے۔ مسجد پختہ بنانے والے کا یہ دعویٰ ہے کہ ہمارا حق ہے۔ از راہِ شریعت کس کا حق ہے؟ جواب: متولی ہونے اور متولی کرنے کا حق واقف کے رہتے اور کسی کو نہیں ہے۔ صورتِ مسؤلہ میں جس نے مسجد اور پختہ دکان بنائی ہے، وہی اس مسجد اور دکان کا واقف ہے تو اسے اختیار ہے کہ آپ خود متولی رہے یا جس کو چاہے متولی کرے اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ جس کو متولی کر چکا ہو، اس کو معزول کر کے خود متولی ہو یا جس کو چاہے متولی کر دے۔ در مختار میں ہے: ’’ولایۃ نصب القیم إلیٰ الواقف۔۔۔ الخ‘‘[2] [متولی مقرر کرنے کا حق واقف کو ہے۔۔۔ الخ] شامی (۳/ ۴۴۶ چھاپہ مصر) میں ہے: ’’(قولہ: ولایۃ نصب القیم إلی الواقف) قال في البحر: قدمنا أن الولایۃ للواقف ثابتۃ مدۃ حیاتہ، وإن لم یشترطھا، وإن لہ عزل المتولي‘‘ اھ [ان کا یہ قول: ’’متولی مقرر کرنے کا حق واقف کو ہے‘‘، ’’البحر‘‘ کے مصنف نے اس میں لکھا ہے: پہلے ہم یہ بیان کر چکے کہ ولایت واقف کے لیے زندگی بھر ثابت ہے، اگرچہ اس نے اس کی شرط نہ لگائی ہو اور [1] الدر المختار (۴/ ۴۲۱) [2] رد المحتار (۴/ ۳۸۰)