کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 583
ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس اس کی وجہ سے مواخذہ بھی کر سکتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، پھر جس قدر الله چاہتا ہے وہ شخص گناہ سے باز رہتا ہے، لیکن پھر گناہ کر لیتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا ہوں ، اسے معاف کر دے، تو الله تعالیٰ فرماتا ہے: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ بخش سکتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کر سکتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، پھر جس قدر الله تعالیٰ چاہتا ہے، وہ باز رہتا ہے، لیکن پھر گناہ کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے: اے میرے رب! میں ایک اور گناہ کر بیٹھا ہوں ، مجھے معاف فرما دے، تو الله تعالیٰ فرماتا ہے: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کر سکتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا، وہ جو چاہے سو کرے] وعن ابن مسعود قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ )) [1] (رواہ ابن ماجہ، مشکوۃ، ص: ۱۹۸) [عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (ہوجاتا) ہے جس کا کوئی گناہ نہیں ] صورتِ سوال میں جب ہر دو زانی و زانیہ سے توبہ لی گئی، یعنی دونوں نے توبہ کرلی تو وہ دونوں حسبِ آیت و احادیثِ مذکورہ بالا اس گناہ سے پاک ہوگئے اور وہ عورت بدستور اپنے خاوند کی عورت رہی۔ پس مسلمانوں کو چاہیے کہ ان دونوں کو اپنے ساتھ ملا لیں اور اکل و شرب میں اپنے شامل کر لیں ۔ جاننا چاہیے کہ علمائے دین کا اور خواہ کسی کا یہ حق نہیں کہ الله تعالیٰ کے آسمانی دین میں کچھ اپنی طرف سے گھٹائے یا بڑھائے۔ جب الله تعالیٰ نے خود رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ارشاد فرمایا کہ﴿مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ﴾ یعنی رسول پر اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ الله کا حکم بلا کم و کاست الله کے بندوں تک پہنچا دیں تو اور کوئی کس شمار و قطار میں ہے کہ اپنی طرف سے الله کے دین میں کچھ گھٹائے یا بڑھائے؟ مثلاً: کسی جرم کی سزا اپنی طرف سے مقرر کرنا۔ الحاصل علمائے دین اپنی طرف سے کسی تعزیر و کفارے کے مقرر کرنے کے مجاز نہیں ۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲۸؍ جمادی الأولیٰ ۱۳۳۲ھ) نفاذِ حدود کی شرائط: سوال: ایک شخص نے رات کو جس وقت سب سو رہے تھے، اپنی بی بی کو غیر مرد کے شامل گوشہ تنہائی میں دیکھ کر باہر سے دروازہ بند کر دیا اور بہت سے لوگوں کو دکھا دیا۔ عورت کے سامنے اس کی ماں وغیرہ نے کہا کہ اس سے قصور ہوا، معاف کرو۔ شوہر نے کہا کہ یہ قصور معاف نہیں ہوگا اور عورت کو گھر سے نکال دیا۔ عورت نے خاموشی اختیار کیا، کوئی عذر پیش نہ کیا، اس صورت میں اس پر حکم زنا کا دیا جائے گا یا نہیں ؟ [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۲۵۰)