کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 578
کیونکہ کفارہ دینا ظہار کی حالت میں فرض ہے، جیسا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ ْمِنْ نِّسَآئِ ھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْریْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ* فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا﴾ [المجادلۃ: ۳، ۴] [اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ، پھر اس سے رجوع کر لیتے ہیں جو انھوں نے کہا، تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاؤ گے اور الله اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔ پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے] ظہار کہتے ہیں اپنی بیوی کو کسی محرمات کے ایسے عضو سے تشبیہ دینے کہ جس کا دیکھنا اس مرد پر ہمیشہ حرام ہو، چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں مرقوم ہے: ’’الظھار تشبیہ الزوجۃ أو جزء منھا شائع أو معبر بہ عن الکل بما لا یحل النظر إلیہ من المحرمۃ علی التأبید‘‘[1] [ظہار کا مطلب ہے کہ اپنی بیوی یا اس کے کسی حصے کو محرمات کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دینا جس کا دیکھنا اس مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو] ’’عنایہ شرح ہدایہ‘‘ میں ظہار کے معنی لغوی اور اصطلاحی کی تحقیق میں لکھا ہے: ’’والظھار في اللغۃ: قول الرجل من امرأتہ: أنت علي کظھر أمي، وفي اصطلاح الفقھاء: تشبیہ المنکوحۃ بالمحرمۃ علی سبیل التأبید‘‘[2] [ظہار کا لغوی معنی یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو کہے: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ فقہا کی اصطلاح میں منکوحہ بیوی کو ہمیشہ کے لیے حرام رشتوں سے تشبیہ دینا ہے] تو کسی شخص کا اپنی بیوی کو ماں کہنا ظہار نہ ہوا، بلکہ قول لغو ہوا، اس سے کفارہ دینا نہیں لازم آئے گا، ہاں یہ بات مکروہ البتہ ہے، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے: ’’لو قال لھا: أنت أمي۔ لا یکون مظاھرا، و ینبغي أن یکون مکروھا‘‘[3]و اللّٰه أعلم بالصواب [1] الفتاویٰ الھندیۃ (۱/ ۵۰۵) [2] العنایۃ شرح الھدایۃ للبابرتي (۴/ ۲۴۶) [3] الفتاویٰ الھندیۃ (۱/ ۵۰۷)