کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 574
کر لو، اگر وہ اصلاح کا ارادہ کریں گے تو الله ان میں اتفاق پیدا کر دے گا] وعن سعید بن المسیب في الرجل لا یجد ما ینفق علی أھلہ قال: یفرق بینھما۔ أخرجہ سعید بن منصور عن سفیان عن أبي الزناد قال: قلت لسعید بن المسیب: سنۃ؟ قال: سنۃ، وھذا مرسل قوي۔[1] [سعید بن مسیب نے اس آدمی کے متعلق فتویٰ دیا، جو اپنی بیوی کو خرچ نہ دے سکے کہ ان کو ایک دوسرے سے علاحدہ کروا دیا جائے، کسی نے سعید سے پوچھا: کیا یہ سنت ہے؟ فرمایا: ہاں سنت ہے] قال في سبل السلام (۲/ ۱۲۷): و مراسیل سعید معمول بھا لما عرف من أنہ لا یرسل إلا عن ثقۃ، قال الشافعي والذي یشبہ أن یکون قول سعید سنۃ، سنۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔ اھ [سبل السلام (۲/ ۱۲۷) میں ہے کہ سعید کی تمام مرسل حدیثیں مقبول ہیں ، کیونکہ وہ صرف ثقہ لوگوں ہی سے روایت کرتے ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: سعید جب’’سنت‘‘ کہتے ہیں تو اس سے مراد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوتی ہے] وفیہ أیضاً (۲/ ۱۲۷): وقد أخرج الدارقطني والبیھقي من حدیث أبي ھریرۃ مرفوعاً بلفظ: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في الرجل لا یجد ما ینفق علی امرأتہ قال: (( یفرق بینھما ))۔ اھو اللّٰه أعلم بالصواب [رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کو خرچ نہ دے سکے، اس میں علاحدگی کرا دی جائے۔ اسے دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ احمدیہ) سید محمد ابو الحسن سید محمد نذیر حسین سید محمد عبد السلام خلع لینے والی عورت کی عدت: سوال: زید نے اپنی لڑکی ہندہ کا ایک شخص سے نکاح کر دیا، بعد گزرنے کچھ عرصہ کے ہندہ نے دینِ مہر اپنے شوہر کو واپس دے کر خلع طلاق لے لی ہے۔ اب وہ عورت مختلعہ کتنے دن عدت گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ جواب: مختلعہ عورت کی عدت صرف ایک حیض ہے۔ ’’عن الربیع بنت معوذ بن عفراء أنھا اختلعت علی عھد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فأمرھا النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أو أمرت أن تعتد بحیضۃ‘‘[2] [ربیع بنت معوذ بن عفرا رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں خلع لیا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے [1] بلوغ المرام (۱۱۵۸) نیز دیکھیں : سنن سعید بن منصور (۲/ ۵۵) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۱۸۵)