کتاب: مجموعہ فتاویٰ - صفحہ 537
یحبس، ویضیق علیہ حتی یطلق۔ قال ابن الأعرابي: غلق زید عمرا علی شییٔ یفعلہ، إذا أکرھہ علیہ‘‘ (لسان العرب: ۱۲/ ۱۶۵) [حدیث میں ہے کہ اغلاق میں طلاق نہیں اور نہ غلام کو آزاد کرنا ہے، یعنی اِکراہ میں ۔ اغلاق کا معنی اِکراہ ہے، کیونکہ مغلق کو اس کے معاملے میں مجبور کیا جاتا ہے اور اس کے تصرف میں اس پر تنگی کی جاتی ہے، گویا اس پر دروازہ بند کر دیا جاتا ہے، اسے قید کر دیا جاتا ہے اور اس کی آزادی تک اس پر تنگی کی جاتی ہے۔ ابن الاعرابی نے کہا: ’’غلق زید عمرا علی شییٔ یفعلہ‘‘ اس وقت بولا جاتا ہے جب زید نے اسے مجبور کر دیا ہو] ’’اکراہ‘‘ کے معنی ہیں : بزور و ستم کسی کو کسی کام پر رکھنا۔ قاموس میں ہے: ’’جبرہ علی الأمر أکرھہ کأجبرہ‘‘[1] انتھی [’’جبرہ علی الأمر‘‘ کا مطلب ہے، ’’أکرھہ‘‘ (اس نے اسے مجبور کیا) یہ ’’أجبرہ‘‘ کی طرح ہے] ’’غیاث اللغات‘‘ میں ہے: ’’اکراہ بزور و ستم کسے را بر کارے دا شتن و اجبار کسے را بزور برکا رے داشتن ‘‘ [’’اِکراہ‘‘ کا مطلب ہے کہ زور و ستم سے کسی کو کسی کام پر لگانا اور ’’اِجبار‘‘ کا مطلب ہے کہ کسی کو زبر دستی کے ساتھ کسی کام پر رکھنا] عبارتِ سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت بکر سے طلاق دلوائی گئی تھی، اس وقت بکر کی حالت پر اِکراہ کی تعریف صادق آتی تھی، پس اس بنا پر ہندہ پر وہ طلاق تو واقع نہیں ہوئی، لیکن جس وقت بکر سے شرطیہ طلاق نامہ لکھوایا گیا، اس وقت اور جس وقت بکر نے وہاں سے گریز کیا، اس وقت بکر کی حالت پر اِکراہ کی تعریف صادق آتی تھی یا نہیں ؟ عبارتِ سوال سے کوئی بات صاف معلوم نہیں ہوتی اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ بکر نے جس مجبوری سے گریز کیا تھا، وہ مجبوری کیا تھی؟ لہٰذا جب تک کوئی صاف بات معلوم نہ ہو، تب تک نہ وقوعِ طلاق کا حکم لگایا جا سکتا ہے اور نہ عدمِ وقوعِ طلاق کا۔ و اللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۱۹؍ محرم ۱۳۳۷ھ) سوال: اگر کوئی شخص جبراً بخوفِ جان یا بخوفِ زد و کوب طلاق دے دے تو وہ طلا ق ازروئے شرع شریف کے جائز ہے یا نہیں ؟ جواب: جو طلاق اِکراہاً، یعنی جبراً دی جائے وہ شرعاً نا معتبر ہے، یعنی نہیں پڑتی۔ سنن ابو داود (ص: ۱۹۹ چھاپہ دہلی) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لا طلاق ولا عتاق في إغلاق )) [2] یعنی جو طلاق حالتِ اغلاق میں دی جائے، وہ نامعتبر ہے۔ اسی طرح عتاق میں بھی یعنی غلام لونڈیاں کا آزاد کرنا حالتِ اِغلاق میں نامعتبر ہے۔ اغلاق کی تفسیر میں علماء کی عبارات مختلف ہیں ۔ خود ابو داود رحمہ اللہ ہیں : ’’أظنہ الغضب‘‘ یعنی میں گمان کرتا ہوں کہ اِغلاق کے معنی غصہ کے [1] القاموس المحیط (ص: ۳۶۰) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۱۹۳)